AIOU: Assignment No 3 Solution Course Code 209

پیٹ میں دھاگہ نما کرم کی وجہ سے کیا علامات ہو سکتی ہیں؟ مختصر الکھیں

پیٹ میں دھاگہ نما کرم کی وجہ سے درج ذیل علامات ہو سکتی ہیں

پیٹ درد

پیٹ میں دھاگہ نما کرم کی وجہ سے پیٹ درد ہوتا ہے، جو اکثر ہضمی نظام کے مختلف حصوں میں محسوس ہوتا ہے۔

قہرے یا سوزش

اگر دھاگہ نما کرم زیادہ تعداد میں ہوتا ہے تو اس کی وجہ سے پیٹ میں قہرے یا سوزش ہوتی ہے۔

اُلٹی یا قیئ

دھاگہ نما کرم کی موجودگی سے ہضمی نظام متاثر ہوتا ہے جس کی بنا پر اُلٹی یا قیئ ہو سکتی ہے۔

وزن کمی

زیادہ تعداد میں کرموں کی موجودگی سے وزن میں کمی ہوتی ہے، چونکہ کرم خوراک کو نگل کر جسم کی طاقت استعمال کرتے ہیں۔

پیٹ میں چھوٹی چھوٹی دکھائی دینے والی دھاگے کی شکل

دھاگہ نما کرم کی موجودگی کی بنا پر پیٹ کی خود میں چھوٹی چھوٹی دکھائی دینے والی دھاگے کی شکل میں دکھائی دینے والی اشیاء ہوتی ہیں۔

اکثر پیٹ کے بلکل نچلے حصے میں ہوتا ہے

دھاگہ نما کرم عام طور پر پیٹ کے بلکل نچلے حصے میں پایا جاتا ہے۔

آکسیجن کی کمی

دھاگہ نما کرم جسم کی دھکا دینے والی نسیموں کو رکاوٹ بناتا ہے، جس سے آکسیجن کی کمی ہو سکتی ہے، اور اس سے آدمی کو خستہ لگتا ہے۔

اگر کسی کو ایسی علامات محسوس ہوں تو فوراً مقامی ڈاکٹر یا صحت کی دیکھ بھال فراہم کرنا ضروری ہے تاکہ ممکنہ کرموں کا علاج شروع ہو سکے۔

ٹماٹر کی چٹنی بنانے کا طریقہ لکھیں۔

ٹماٹر کی چٹنی بنانے کا طریقہ درج ذیل ہے

مواد

ٹماٹر: 4-5 عدد (چھلکے نکال کر چوپ کر لیں)

پیاز: 1 عدد (چھوٹے چوپ کر لیں)

ہرا دھنیا: 2 چھٹکے (کٹا ہوا)

پودینہ: 1 چھٹکا (کٹا ہوا)

لیموں کا رس: 2 چمچ

کالی مرچ: 1 چٹکی (پیسی ہوئی)

نمک: حسبِ ذائقہ

کالا نمک: چٹکا (اختیاری)

طریقہ

ایک باؤل میں ٹماٹر، پیاز، ہرا دھنیا، پودینہ، اور کالی مرچ چوپ کر لیں۔

چوپ کردہ مواد میں لیموں کا رس ڈالیں۔

اب اس میں نمک اور کالا نمک چھڑکیں۔

اچھی طرح ملا لیں اور چٹنی تیار ہے۔

چٹنی کو ٹینچر میں ڈال کر ٹھنڈا ہونے دیں۔

ٹھنڈی ہوئی ٹماٹر کی چٹنی کو چھان لیں تاکہ بیجوں وغیرہ کا چھلکا الگ ہو جائے اور چٹنی ہموار ہو جائے۔

ٹماٹر کی چٹنی تیار ہے، جو گرما گرم روٹیوں، پراٹھے، چاول، یا دال چاول کے ساتھ مزیدار میل فراہم کرتی ہے۔

ناک اور کان کی صفائی کے بارے میں مختصر الکھیں۔

اک اور کان کی صفائی اہم ہے تاکہ انگڑائیوں، بیماریوں، اور دیگر صحت سے متعلق مسائلوں کا سامنا کیا جا سکے۔ یہاں ان دونوں کے صفائی کے بارے میں مختصر الکھا گیا ہے:

ناک کی صفائی

دھونا

ناک کو روزانہ دھونا اہم ہے تاکہ ناک میں جمع ہونے والے غبار، خشکی، اور دیگر ذرات ختم ہو سکیں۔

ناک کی خشکی کا علاج

خشکی کی صورت میں، موسمی خشکی یا برفیلی موسم میں، ناک میں خشکی کو رفع کرنے کے لئے ہوا کی گرمی سے بچنا چاہئے۔

ناک کی ٹپ میں نمی

ناک کی ٹپ میں نمی رکھنا بھی اچھا ہوتا ہے تاکہ ناک میں خشکی کم ہو اور چھوٹے جراثیم کو مارا جا سکے۔

ناک میں ملچھوں یا کچھ چھوٹے جراثیمات کو نکالنا

ناک میں ملچھوں یا چھوٹے جراثیمات کو نکالنے کے لئے ہومیوپیتھک یا طبی دوائیں بھی استعمال کی جاتی ہیں۔

کان کی صفائی

کانوں کو صاف رکھیں

کانوں کو روزانہ صاف رکھنا اہم ہے تاکہ کانوں میں جمع ہونے والے میل، موم، یا دیگر مادوں کو ختم کیا جا سکے۔

کانوں کو ہر قسم کے زیرہتمام سے بچائیں

کانوں کو چھوڑا نہ جائے اور جلدی ہر قسم کے زیرہتمام سے بچائیں۔

چھائیں سے بچیں

زیادہ گرم چھائیں یا گرم ہوا کانوں کو نقصان پہنچا سکتی ہیں، اس لئے اچھی قسم کی چھائیں استعمال کریں۔

آرگینک یا ملائم شمپو استعمال کریں

کانوں کو صاف کرنے کے لئے آرگینک یا ملائم شمپو استعمال کریں تاکہ کانوں کی جلد پر نرمی بنقریں۔

کان میں چھینکے نہ ماریں

کان میں چھینکے نہ ماریں، چونکہ یہ کان کی صفائی کو متاثر کر سکتا ہے۔

یہ تدابیر ناک اور کان کی صفائی میں مدد فراہم کرتی ہیں اور بچوں اور بڑوں کو صحتمند رکھنے میں مدد کرتی ہیں

ماہانہ صفائی کے بارے میں آپ کیا جانتے ہیں مختصر الکھیں۔

اہانہ صفائی سے مراد ایک ماہ کے دوران کسی مخصوص جگہ یا اپنے ہنر کاری میں صفائی اور دیکھ بھال کا عمل ہے۔ یہ مختلف شعبوں میں استعمال ہوتا ہے اور عام طور پر گھروں، دفاتر، اور تجارتی ادارے میں کیا جاتا ہے۔

ماہانہ صفائی کے اہم تجزیے

گھریلو صفائی

گھریلو صفائی میں آپ اپنے گھر کو صاف، صحیح، اور دیکھ بھال شدہ رکھتے ہیں۔

یہ شامل ہوتا ہے گھر کی صفائی، خوراک کی صفائی، اور خصوصاً جگہ جگہ کی صفائی۔

دفاتر اور کارخانوں کی صفائی

تجارتی اداروں، دفاتر، اور کارخانوں میں ماہانہ صفائی کا عمل صارفین اور ملازمین کے لئے صحتمند ماحول فراہم کرتا ہے۔

صفائی کا عمل ماہانہ ہونے سے آپ کی چیزیں اور اوزار دائمی طور پر صاف، ترتیب و تنظیم میں رہتے ہیں۔

تجارتی ادارات کی صفائی

دکانوں، ریستوراں، اور دیگر تجارتی ادارات میں ماہانہ صفائی کا عمل خریداروں کو خوش آمدید محسوس ہونے میں مدد فراہم کرتا ہے۔

صفائی کا معیار بڑھانے سے مشتریوں کا اعتماد حاصل ہوتا ہے اور مزید کسب و کار کی بڑھوتری کا امکان بڑھتا ہے۔

صحتمند ماحول

ماہانہ صفائی نے صحتمند ماحول فراہم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔

صفائی سے بچوں اور بڑوں کو صفائی کا اہتمام سیکھایا جاتا ہے جو ان کے صحت کے لئے بہتر ہوتا ہے۔

آبادی کی سلامتی

بڑی آبادیوں میں ماہانہ صفائی کا عمل اہم ہے تاکہ زندگی گزارنے والے لوگ صفائی، ہضم اور خوراکیں ترتیب و تنظیم میں رہیں۔

پبلک ٹرانسپورٹ

ماہانہ صفائی کا عمل شہروں میں عوامی ٹرانسپورٹ کے اوزاروں، اسٹیشنوں، اور پبلک پلیسز میں بہترین استعمال کا ذریعہ ہوتا ہے۔

صفائی کا معیار بڑھانے سے عوامی ٹرانسپورٹ کا استعمال افراد کو زیادہ آسان ہوتا ہے۔

ماہانہ صفائی کا عمل اہم ہے تاکہ مختلف شعبوں میں صحتمند، منظم، اور دیکھ بھال شدہ ماحولات فراہم ہو سکیں۔

خوراک کو محفوظ کرنے میں خورد نامیوں کا کیا عمل دخل ہے؟

خورد نامیوں کا مقصد خوراک کو محفوظ رکھنا اور اس کی عمر کو بڑھانا ہوتا ہے۔ یہ عمل خوراکیں مستقبل کے استعمال کے لئے تیار کرنے اور انہیں بچانے کیلئے کئی طریقوں سے کیا جاتا ہے:

کمپریسن

خورد نامیوں میں اکثر ایک خوراکی یا دودھ یا کچھ دوسری مادے کو محفوظ رکھنے کیلئے خاص فضائیں مخصوص کی جاتی ہیں۔

فروخت

بڑے پیمانے پر یا صنعتی سطح پر، خورد نامیوں کی مدد سے خوراکیں فروخت کے لئے محفوظ رکھی جاتی ہیں۔

بچت

خوراکیں خریدتے وقت یا کمی کے دوران، خورد نامیوں کا استعمال کیا جاتا ہے تاکہ مصرف ہونے والی مقدار کم ہو اور اس کو دوبارہ استعمال کے لئے محفوظ رکھا جا سکے۔

مصرف کی درست تاریخ

خورد نامیوں پر مصرف کی تاریخ اور مدت کو درست طریقے سے نوٹ کرکے محفوظ رکھا جاتا ہے تاکہ مصرف کرنے سے پہلے یہ چیک کیا جا سکے کہ کیا خوراک صحتمند ہے اور اس کی تاریخ ختم نہ ہو گئی ہے۔

ٹیمپریچر کنٹرول

خوراکوں کی محفوظت کیلئے اہم ہے کہ ان کو مخصوص درجہ حرارت پر رکھا جائے۔ خوراکوں کی درجہ حرارت کو مستقل رکھنے کیلئے خورد نامیوں کا استعمال کیا جاتا ہے۔

خوراکیں بستہ بند کرنے کی مدد

خورد نامیوں کا استعمال خوراکوں کو بستہ بند کرنے میں بھی کیا جاتا ہے۔ یہ خوراکیں ہوائی اور رطوبتی شرائطوں سے بچانے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔

خورد نامیوں کا صحیح اور موثر استعمال، خوراکوں کی عمر کو بڑھاتا ہے اور ان کو محفوظ رکھتا ہے تاکہ وہ صحتمند اور تازہ رہیں۔

مندرجہ ذیل سوالات کے مفصل جوابات لکھیں۔ ہر سوال کے دس نمبر ہیں۔

گاجر کا مربہ اور سیب کا جام بنانے کا طریقہ لکھیں۔

گاجر کا مربہ

اجزاء

گاجر: 1/2 کلو گرام (چھلکا کٹا ہوا اور چھوٹے ٹکڑوں میں)

چینی: 1/2 کلو گرام

لیموں کا رس: 2 چمچ

پانی: 1/2 کپ

طریقہ

گاجر کو چھوٹے ٹکڑوں میں کاٹ لیں۔

ایک برتن میں گاجر ڈالیں اور اس میں پانی ڈال کر گاجر گلنے دیں۔

گاجر گلنے کے بعد اسے چھلنے کی چھنی میں ڈال دیں تاکہ گاجر کا پانی الگ ہو جائے۔

اب گاجر کا پانی، چینی اور لیموں کا رس کو مکس کر کے دوبارہ آنچ بڑھا دیں اور ٹھوڑی دیر کے لئے پکنے دیں۔

مربہ گاڑھا ہو جائے تو اسے اُٹھا لیں اور گرما گرما چھڑک دیں۔

ٹھنڈا ہونے پر گاجر کا مربہ ٹین کے جار میں بھر کر رکھیں۔

سیب کا جام

اجزاء

سیب: 4 عدد (چھلکا کٹا ہوا اور چھوٹے ٹکڑوں میں)

چینی: 1/2 کپ

لیموں کا رس: 1 چمچ

پانی: 1/2 کپ

دار چینی: 1/4 چائے کا چمچ (اختیاری)

ایلاچی پاؤڈر: 1/4 چائے کا چمچ (اختیاری)

طریقہ

سیب کو چھوٹے ٹکڑوں میں کاٹ لیں۔

ایک برتن میں سیب ڈالیں اور اس میں پانی ڈال کر سیب گلنے دیں۔

سیب گلنے کے بعد اسے چھلنے کی چھنی میں ڈال دیں تاکہ سیب کا پانی الگ ہو جائے۔

اب سیب کا پانی، چینی، لیموں کا رس، دار چینی (اگر استعمال ہو) اور ایلاچی پاؤڈر (اگر استعمال ہو) کو مکس کر کے دوبارہ آنچ بڑھا دیں اور ٹھوڑی دیر کے لئے پکنے دیں۔

مربہ گاڑھا ہو جائے تو اسے اُٹھا لیں اور گرما گرما چھڑک دیں۔

ٹھنڈا ہونے پر سیب کا مربہ ٹین کے جار میں بھر کر رکھیں۔

آپ گاجر کا مربہ اور سیب کا جام تیار ہیں، جو صحت بخش اور مزیدار ہوتے ہیں

خوراک خراب ہونے کی وجوہات تحریر کریں۔

خوراک خراب ہونے کی وجوہات مندرجہ ذیل ہو سکتی ہیں:

دھوپ یا گرمی

زیادہ دھوپ یا بہت زیادہ گرمی خوراک کو جلدی خراب کر سکتی ہے۔ یہ بخصوص دودھ، دہی، اور دیگر دیر محتاط خوراکوں کے لئے درست ہے۔

ٹھنڈا ہونا

زیادہ دیر تک ٹھنڈا ہونا بھی خوراک کو خراب کر سکتا ہے۔

میکانیکل آسیب

غذا کو صحیح طریقے سے رکھنے کے لئے خوراکوں کو محکم ڈبوں یا کنٹینرز میں رکھنا ضروری ہے۔ یہاں تھوڑی سی چوٹ، گرنا، یا ہلاک ہونا بھی خوراک کو متاثر کرتا ہے۔

خوراکوں کی تاریخ

خوراکوں پر موجود تاریخ کا خیال نہ کرنا یا منسلک نہ کرنا بھی ایک بڑی وجہ ہے۔ اگر خوراک کا انقضاء ہو گیا ہو تو یہ صحت کے لحاظ سے خطرناک ہو سکتی ہے۔

بیکٹیریا اور جراثیم

خوراک میں بیکٹیریا اور جراثیم کا موجود ہونا بھی ایک ممکنہ خرابی ہے۔ یہ خوراک کو فوراً خراب کر سکتے ہیں اور اس سے اپنے خوراکوں کے ذریعے صحتمندی کا خطرہ بڑھتا ہے۔

حشرات

خوراک کو محفوظ رکھنے کیلئے حشرات سے بچاؤ ضروری ہے۔ اگر خوراک میں کیڑے یا کیڑے کی چھاؤں ہوں تو یہ صحت کے لحاظ سے مضر ہے اور خوراک خراب ہو سکتی ہے۔

آلات کی صفائی

خوراک تیار کرنے والے آلات کی صفائی کو بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہئے۔ اگر آلات صاف نہ ہوں تو یہ خوراک کو خراب کر سکتے ہیں۔

تعلیم و اہتمام

خوراک کی تیاری اور ان کو صحیح طریقے سے رکھنے کی تعلیم نہ ہونا بھی ایک بڑی وجہ ہو سکتی ہے۔ اہل خانہ کو صحتمند طریقے سے خوراک تیار کرنے اور رکھنے کی تعلیم ملتی رہے تو خوراک خراب ہونے کا خدشہ کم ہوتا ہے۔

یہ وجوہات خوراک خراب ہونے کا باعث بنتی ہیں اور اس سے ہونے والے نقصانات سے بچنے کیلئے خوراک کو صحیح طریقے سے استعمال کرنا بہترین ہوتا ہے۔

صفائی کی کمی کی وجہ سے کون کون سے امراض ہو سکتے ہیں کسی دو کے بارے میں مفصل لکھیں۔

صفائی کی کمی کی وجہ سے مختلف امراض ہو سکتے ہیں۔ یہاں کچھ امکانی اثرات ہیں

پھپھڑے کی بیماریاں (Respiratory Diseases): ہوا میں موجود ذرات اور ذرائع کی کمی کی بنا پر ہوا کی صفائی میں کمی ہوتی ہے جو مختلف پھپھڑے کی بیماریوں جیسے آسما، برونکائٹس اینڈ چھینکنے کی بیماریوں کو بڑھا سکتی ہے۔

چشمی بیماریاں (Eye Diseases): ہوا میں موجود ذرات اور ذرائع کی کمی کی بنا پر چشموں کو نقصان پہنچ سکتا ہے، جو آنکھوں کی بیماریوں کا شکار ہونے کا خدشہ بڑھا دیتی ہے۔

دل کی بیماریاں (Cardiovascular Diseases): ہوا میں موجود زیادہ مقدار میں چیمیکلز اور ذرات دل کی صحت پر برا اثر ڈال سکتے ہیں اور چکنی ہوا کی کمی کے باعث دل کی بیماریوں کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

کینسر (Cancer): صفائی کی کمی اور ماحولیاتی زہریلے مواد کینسر کے خطرے کو بڑھا سکتے ہیں۔

بچوں میں متعلقہ بیماریاں (Pediatric Diseases): ہوا میں موجود مضر اثرات کی بنا پر بچوں میں چشمی، آسما اور دوسری صحت کی مسائل کا خطرہ بڑھتا ہے۔

ہڈروکاربن گیسوں کی مضر اثرات: ہڈروکاربن گیسوں کی صفائی میں کمی کی بنا پر سانس لینے میں مشکل ہوتی ہے جو سانس لینے کی بیماریوں کا باعث بنتی ہے۔

سینکرسنے اور موادی ذرائع کی صفائی کی کمی: صفائی کی کمی کی بنا پر سینکرسنے اور موادی ذرائع کا استعمال جسم میں مختلف امراض کا باعث بنتا ہے، جیسے کہ کمی اور موادی ذرائع کی بیماریاں۔

چربی اور موادی زہریلے اثرات: صفائی کی کمی کی بنا پر موجود چربی اور موادی زہریلے اثرات کی مقدار بڑھتی ہے جو امراض جیسے کہ ڈائیبیٹیس اور چربی کی بیماریوں کا خطرہ بڑھا دیتی ہے۔

دماغی صحت پر اثرات: صفائی کی کمی کی بنا پر ذہانت میں کمی اور دماغی صحت کے مسائل کا خطرہ بڑھتا ہے۔

گھر کی صفائی کو کتنی اقسام میں تقسیم کیا جا سکتا ہے؟ نیز روزانہ اور سالانہ صفائی کے بارے میں لکھیں۔

گھر کی صفائی کو مختلف اقسام میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:

روموں کی صفائی گھر کے ہر کمرے کو صاف ستھرا رکھنا، زمین صاف رکھنا، اور فرنیچر، چھتیں، اور دیگر ساز سامان کو صفائی کرنا شامل ہے۔

باتھ روم کی صفائی باتھ روم کو صاف رکھنا، ٹائلٹ صاف کرنا، باتھ ٹب اور شاور کی صفائی، اور ہر روزانہ استعمال ہونے والے صابن اور دیگر صفائی کی چیزوں کو چیک کرنا شامل ہے۔

کچن کی صفائی کچن کے سب سے زیادہ استعمال ہونے والے علاقے کو صاف رکھنا، ہر دن آشپزخانے کو صاف کرنا، برتنوں کو دھونا، اور گیس سٹوو کو صاف رکھنا شامل ہے۔

گیہرائج کی صفائی گیہرائج کو صاف رکھنا، گاڑیوں کو دھونا، اور غیر ضروری چیزوں کو صفائی کرنا شامل ہے۔

سوشل ایریا کی صفائی گھر کے سوشل ایریا جیسے کہ چھت، باغ، اور ٹیرس کو صاف رکھنا اور ہر موسم کے مطابق ان کی صفائی کرنا شامل ہے۔

لانڈری کا علاقہ کپڑوں کو صاف رکھنا، لانڈری مشین کی صفائی اور اس کی صفائی کے اوقات کو چیک کرنا شامل ہے۔

روزانہ صفائی گھر کے روزانہ استعمال ہونے والے علاقے، جیسے کہ کچن اور باتھ روم، کو روزانہ صاف رکھنا گھر کی صفائی کی بنیاد ہے۔

ہفتہ وار صفائی ہفتہ میں ایک دن خصوصاً وقت نکال کر گھر کی مختلف علاقوں کو چیک کرنا اور صفائی کرنا، جیسے کہ دھوبی کپڑے، فرنیچر، اور زیادہ استعمال نہ ہونے والے کمرے۔

مہینہ وار یا سالانہ صفائی ہر مہینے یا سالانہ ایسی جگہوں کو صاف کرنا جہاں روزانہ نہیں جایا جاتا، جیسے کہ گیہرائج، چھت، اور بڑے کمروں کی تھوڑی مہینہ وار یا سالانہ صفائی کرنا ضروری ہے۔

شہوت اور آلو بخارے کو خشک کرنے کا طریقہ لکھیں۔

شہوت خشک کرنے کا طریقہ

مواد

شہوت: حسبِ ضرورت

طریقہ

شہوت کو صاف اور تازہ حاصل کریں۔

شہوت کو چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں کاٹ لیں تاکہ یہ جلد پر اچھی طرح خشک ہو سکے۔

شہوت کے ٹکڑے کو خشک ہونے کے لئے رات بھر کے لئے باہر رکھیں یا ہوا دار جگہ پر سپریڈ کریں۔

چھوٹے ٹکڑوں میں کاٹا ہوا شہوت خشک ہونے میں زیادہ جلدی خراب ہوتا ہے۔

آلو بخارے خشک کرنے کا طریقہ

مواد

آلو بخارے: حسبِ ضرورت

طریقہ

آلو بخارے کو صاف کریں اور چھلکے نکال دیں۔

آلو بخارے کو چھوٹے ٹکڑوں یا چکچکیں میں کاٹ لیں۔

ایک چٹی یا خشکی پر آلو بخارے کے ٹکڑے لگا دیں تاکہ یہ خشک ہونے میں زیادہ وقت نہ لگے۔

آلو بخارے کو خوراکیں میں شامل کرنے یا دیگر خوراکوں کے لئے اس کا استعمال کریں۔

نکتہ

خشک کرنے والی مواد کو صاف اور آمنے جگہوں پر رکھیں تاکہ یہ صفائی سے خراب نہ ہو۔

مواد کو اچھی طرح سے خشک ہونے دیں تاکہ کوئی چیز بھی اس میں نمی اور رطوبت بچے۔

خشک کرنے والے مواد کو منظم دورانیے پر چیک کریں اور اگر کہاں ضرورت ہو وہاں پر بدلیں یا ٹہنیوں میں چھپا لیں۔

خوراک کو جراثیم سے کیسے محفوظ کیا جاسکتا ہے؟

خوراک کو جراثیم سے محفوظ رکھنے کے لئے مندرجہ ذیل تدابیر کی جا سکتی ہیں:

ہاتھ دھوئیں: خوراک تیار کرنے یا کھانے سے پہلے ہمیشہ ہاتھ دھوئیں۔ صاف ہاتھوں سے غذا بنانے اور کھانے کے بعد ہاتھ دھونا جراثیم کی منعکسی کم کرتا ہے۔

صاف خوراک: صاف، تازہ اور صحت مند خوراک ہمیشہ کیلئے بہتر ہوتی ہے۔ خوراک کو صفائی سے تیار کریں اور تازہ ترین مواد استعمال کریں۔

غذائی بچھوں کی ٹینسن: ہمیشہ یہ یاد رکھیں کہ غذائی بچھے کھانے کا ذمہ دار ہوتے ہیں، اور ان کو صاف ہاتھوں سے خوراک تیار کرنے کا اہتمام کریں۔

صفائی بچھوں کی کتبوں: گھر میں بچے ہیں تو انہیں صفائی کے اہمیت کو سکھائیں اور صفائی بچھوں کے کمرے، گیمز، اور ہمیشہ استعمال ہونے والے اشیاء پر دھیان دینے کا عادت بنائیں۔

فریج میں صفائی: فریج کو ہمیشہ صاف رکھیں اور وہان موادات کو صحیح طریقے سے رکھیں۔

سخت گھٹکا بیورڈز استعمال کریں: چھکچڑے، گھٹکے، اور کٹنے والے بورڈز کا صحیح طریقے سے استعمال کریں تاکہ جراثیموں کا منع ممکن ہو۔

جھاڑو والے پنکھے کا استعمال: خوراک تیار کرتے وقت اور کھانے کے بعد، زمین پر گری ہوئی خوراک کو جھاڑو والے پنکھے سے صاف کریں۔

خوراک کو چھڑکنے والے چیزوں کی صفائی: خوراک کو چھڑکنے والے چیزوں کو بھی صفائی کریں، جیسے کہ چمچے، ٹھیلے، اور کھانے کے برتنے۔

یہ چند تدابیر جراثیموں کو کم کر کے خوراک کو صحت مند رکھنے میں مدد فراہم کر سکتی ہیں۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *