Solved Assignment No 4 Course Code 201

سوال نمبر 1۔ بیوی کے نفقہ اور حق ملکیت پر علیحدہ علیحدہ نوٹ تحریر کریں۔۔

بیوی کے نفقہ پر

بیوی کے نفقہ کا حصول اسلامی تعلیمات میں بڑی اہمیت رکھتا ہے اور قرآن اور حدیثوں میں معیاری طریقے سے اس پر بات ہوئی ہے۔

الزامات کا اجتناب: اسلام میں بیوی کو اسکے نفقہ کے حصول کے لئے ہرگز الزام نہیں لگایا جاتا۔ شوہر کو چاہئے کہ اپنی ذاتی مخصوصات کے مطابق بیوی کو حقیقتاً اچھا نفقہ دے۔

انصافی تقسیم: اسلام میں بیوی کے نفقہ کی مناسب تقسیم پر زور دیا گیا ہے۔ شوہر کو چاہئے کہ اپنے مالی حالات کو دیکھ کر بیوی کو اچھا نفقہ دے۔

معاشرتی حقوق: بیوی کا نفقہ اُس کی معاشرتی حقوق میں شامل ہے۔ یعنی، اسے گھر کے خرچ، کپڑے، مکمل خوراک، اور دیگر ضروریات ملنی چاہئیں۔

حفاظت اور محبت: بیوی کو نفقہ دینے کے علاوہ، اسلام میں شوہر کو بیوی کی حفاظت اور محبت کا بھی اہتمام کرنا واجب ہے۔

استقلال: بیوی کا نفقہ اُس کی استقلال کو برقرار رکھنے میں مدد کرنا چاہئے۔ اُسے اپنی مالی تقاضوں کو خود پورا کرنے کا اہتمام کرنے کیلئے مدد ملنی چاہئے تاکہ وہ خود بھی اپنے زندگی کو معاشرتی طور پر بہتر بنا سکے۔

حق ملکیت پر

شرعی حقوق: اسلام میں بیوی کو شرعی حقوق ملتے ہیں جو اسے ملکیت حاصل کرنے کا حق دیتے ہیں۔

مالی حقوق: بیوی کو اسلام میں مالی حقوق بھی ملتے ہیں، اور اگر شوہر بیوی کو ملک دے، تو یہ اُس کی ملکیت بن جاتا ہے۔

حفاظتی حقوق: اسلام میں بیوی کو اپنی ملکیت کی حفاظت کرنے کا حق ہے اور شوہر کو چاہئے کہ اُس کی ملکیت کا اچھا خیال رکھے۔

تصرف کا حق: اگر شوہر نے بیوی کو ملک دیا ہو تو اسے ملک پر تصرف کا حق ہوتا ہے اور اُسے چاہئے کہ اس حق کا استعمال اچھے طریقے سے کرے۔

وصول کا حق: بیوی کو اپنی ملکیت کو وصول کرنے کا بھی حق ہوتا ہے اور شوہر کو چاہئے کہ اس حق کو پوری طرح سے مانتے ہوئے اُسے اُس کی ملکیت حاصل کرنے کیلئے مدد ملے۔

نوٹ: اس نوٹ میں دی گئی معلومات عمومی اسلامی تعلیمات پر مبنی ہیں اور اصل موضوع پر مزید تفصیلی تعلیمات حاصل کرنا ضروری ہے۔

سوال نمبر 2 رسول اللہ ﷺ کی صفت سادگی اور تواضع پر جامع نوٹ لکھیں

رسول اللہ ﷺ کی صفت سادگی اور تواضع

معاشرتی حقیقت: رسول اللہ ﷺ کی سادگی اور تواضع معاشرتی حقیقت تھیں جو ان کے چہرے پر مظبوطی سے نمایاں ہوتی تھی۔ وہ ہر طبقے کے لوگوں کے ساتھ ملاقات کرتے اور ہر شخص کو اہمیت دیتے تھے۔

. زندگی کی میزانی: رسول اللہ ﷺ نے زندگی کی میزانی کو سادگی اور تواضع میں رکھا۔ وہ زندگی کی مختلف پہلوؤں میں سے گزر کر ہمیشہ اپنے تعلیمات کے ذریعے اُمت کو راہنمائی دیتے رہے۔

ہمدردی اور تعاون: رسول اللہ ﷺ کی سادگی اور تواضع میں ان کی ہمدردی اور تعاون کی بڑھتی ہوئی مثالیں ہیں۔ وہ اپنے اصحاب کو ہمیشہ سے ایک ہوا کر رکھتے اور ان کے مسائل اور خواہشات کے لحاظ سے دلی رہنمائی فراہم کرتے۔

عیاشیں کا رد: رسول اللہ ﷺ نے عیاشیں سے بھی اپنے ہونے والے کسی مل یا چیز کو رد کیا اور اپنی زندگی میں سادگی کو اہمیت دی۔ وہ چاہتے تھے کہ اُمت ان کی زندگی سے سیکھے کہ مال و دولت کی بڑھتی ہوئی حاصلیت سے بھی اگر اسے اپنے خالق کی رضا حاصل ہوتی ہے تو یہ قیمتی ہوتی ہے۔

خود کو زیادہ نہ سمجھنا: رسول اللہ ﷺ خود کو زیادہ نہ سمجھنے اور دوسرے لوگوں کے ساتھ برابری رکھنے کا اہتمام کرتے تھے۔ انہوں نے فرمایا

“میری زندگی کا مثال ہے کہ میں ایک مسافر کے لئے ہوں جو سڑک پر چلتا ہے اور جب اسے سایہ ملتا ہے تو وہ اس سے چلتا رہتا ہے۔”

تواضع کی علامات: رسول اللہ ﷺ کی تواضع کی علامات میں یہ بھی شامل ہے کہ وہ کبھی بھی اپنے اصحاب کے ساتھ بیٹھتے وقت زمین پر بیٹھتے اور اُن کے چہرے کو چمٹا کرتے۔

معاشرتی مسائل کا حل: رسول اللہ ﷺ نے معاشرتی مسائل کا حل تواضع اور محبت کے ذریعے حاصل کیا۔ اُنہوں نے دین کی تعلیمات کو معاشرتی مسائلات میں استعمال کرتے ہوئے لوگوں کو ہم آہنگ بنانے کی کوشش کی۔

معاشرتی عدل: رسول اللہ ﷺ نے معاشرتی معاملات میں بھی اپنی تواضع ظاہر کی، اور اُنہوں نے حکومت کرتے وقت بھی عدل کا استعمال کیا، ہر شخص کو برابر حقوق دیئے، اور معاشرتی فاصلے کم کرن

سوال نمبر 3 رسول اللہ ﷺ کی صفت مساوات اور دوسروں کے جذبات کا احترام کرنا پر علیحدہ علیحدہ نوٹ تحریر کریں۔

سوال نمبر 4۔ عہد فاروقی کے اہم کارنامے تحریر کریں۔

عہد فاروقی اور اہم کارنامے

عہد فاروقی، حضرت عمر بن الخطاب (رضي الله عنه) کے خلافت کا دور تھا جو ہجرت کے 13 سال بعد، 23 ہجری کو آغاز ہوا اور اُسے حضرت عمر بن الخطاب (رضي الله عنه) نے حاصل کیا۔ اس دوران حضرت عمر بن الخطاب (رضي الله عنه) نے اُمت اسلامیہ میں مختلف شعبوں پر اصلاحات کی اور معاشی، سماجی اور دینی ترقی کے لئے محنت کی۔

عہد فاروقی کے اہم کارنامے

عدل و انصاف: حضرت عمر بن الخطاب (رضي الله عنه) نے عہد فاروقی کے دوران عدل و انصاف کا بڑھتا ہوا اہتمام کیا۔ اُنہوں نے عالمانہ فیصلوں کے ذریعے معاشرتی معاملات کو حل کیا اور مظلمین کے خلاف عملی کارروائی کرتے رہے۔

فنون و علوم کی ترویج: حضرت عمر بن الخطاب (رضي الله عنه) نے فنون و علوم کی ترویج کا کام بڑھایا اور تعلیمی اداروں کی بناوٹ کی۔ اُنہوں نے حضرت علی بن ابی طالب (رضي الله عنه) کو تعلیم و تربیت کی فراہمی کے لئے ہدایت دی اور علماء کو اہتمام میں لیا۔

سرکاری چینلز کی بناوٹ: عہد فاروقی میں حضرت عمر بن الخطاب (رضي الله عنه) نے عوام کے ساتھ مواصلات میں بہتری کے لئے سرکاری چینلز کی بناوٹ کی، جو کہ شہروں کے درمیان مواصلات کو مزید آسان بناتے ہیں۔

مالی اصلاحات: حضرت عمر بن الخطاب (رضي الله عنه) نے مالی اصلاحات کی بھی بہت ساری کارروائیں کیں۔ اُنہوں نے مالیہ امور کو درست کرنے کیلئے مختلف تدابیر انتظام کیں اور زکوۃ کے فراہم کرنے کا نظام بھی مضبوط کیا۔

دفتری سسٹم کی بناوٹ: حضرت عمر بن الخطاب (رضي الله عنه) نے حکومتی دفاتر کو مضبوط بنانے کیلئے دفتری سسٹم کی بناوٹ کی اور دفاتر مختلف شعبوں کے لئے مخصوص کیے گئے۔

صحت کی خدمات: حضرت عمر بن الخطاب (رضي الله عنه) نے صحت کی خدمات میں بہتری کے لئے ہسپتالز اور دواخانے بنوانے کا کام کیا۔ اُنہوں نے علاجی فیصلوں کی بناوٹ کی اور مستضعفین کے لئے صحت کی خدمات مہیا کی۔

علمی تربیت: حضرت عمر بن الخطاب (رضي الله عنه) نے علمی تربیت کو اہمیت دی اور مختلف علماء کو تربیت دی۔ اُنہوں نے دینی علوم کے تعلیمی اداروں کی بھرمچیں بڑھائیں اور معاشرتی بہتری کے لئے علمی تربیت فراہم کی۔

نوٹ: یہاں دی گئی معلومات عمومی اسلامی تعلیمات پر مبنی ہیں اور اصل موضوع پر مزید تفصیلی تعلیمات حاصل کرنا ضروری ہے۔

سوال نمبر 5 حضرت عمر کے عدالتی نظام اور اعمال و گورنرز کے محاسبہ کے نظام پر علیحدہ علیحدہ نوٹ تحریر کریں۔

حضرت عمر کے عدالتی نظام

عدلیہ کا استقلال: حضرت عمر بن الخطاب (رضي الله عنه) کا عدالتی نظام استقلالی اور بے لطف تھا۔ وہ خود بھی عادل، منصف اور قانونی فیصلے سنتے تھے اور اُنہوں نے قضائی اداروں کو مختلف دائرہ کاروں میں مختص کیا۔

عوام کی سنگت: حضرت عمر (رضي الله عنه) نے عدالتی نظام میں عوام کی سنگت کو اہمیت دی۔ اُنہوں نے شعبہ اعظم میں قاضیوں کو مختار کیا جو عوام کی تنازعات کے فیصلے کرتے۔

معاشرتی عدل: حضرت عمر بن الخطاب (رضي الله عنه) نے عدالتی نظام کو معاشرتی عدل کے لئے متوازن بنایا۔ اُنہوں نے مظلمین کے خلاف عملی کارروائی کی اور قانونی فیصلے معاشرتی عدل کو یقینی بناتے رہے۔

قضائی علماء کی مشاورت: حضرت عمر (رضي الله عنه) نے عدالتی نظام میں مختصر کارروائی کرنے کیلئے قضائی علماء کو مشاورت کی سہولت فراہم کی تاکہ سنجیدہ قضائی معاملات میں اچھی فیصلے ہوں۔

اعمال و گورنرز کے محاسبہ کا نظام

گورنر کی محاسبہ: حضرت عمر بن الخطاب (رضي الله عنه) نے گورنرز کو محاسبہ کرنے کے لئے خاص نظام قائم کیا۔ گورنرز کو اپنے عملوں کا حساب دینے کا طریقہ مخصوص ہوتا تھا اور اُنہیں عدالتوں میں محاکمہ کرنے کا اہتمام کیا گیا۔

شعبہ اعظم کا نظام: حضرت عمر (رضي الله عنه) نے شعبہ اعظم یعنی گورنر کے اعمال کی معلومات حاصل کرنے کیلئے ایک خاص دفتر تخلیق کیا۔ اس دفتر کی ذمہ دارانہ اور گورنر کی محاسبہ کیلئے تخصیص کی گئی معلومات کا استعمال ہوتا تھا۔

عدلیہ کی راہنمائی: حضرت عمر (رضي الله عنه) نے عدلیہ کو اہمیت دی اور اس کو گورنر کی محاسبہ میں راہنمائی کا کردار دیا۔ اُنہوں نے قانون کی پیشگوئی اور اعمال و گورنر کے زیرِ اہتمام کام کرنے کی راہنمائی کی۔

تشکیلی ترتیبات: حضرت عمر بن الخطاب (رضي الله عنه) نے گورنر کی محاسبہ کو مضبوط کرنے کیلئے تشکیلی ترتیبات بھی دیں۔ اُنہوں نے مختلف شعبوں کو مختص کیا جو کہ گورنر کے اعمال کی جائزہ لیتے اور محاسبہ کرتے۔

نوٹ: یہاں دی گئی معلومات عمومی اسلامی تعلیمات پر مبنی ہیں اور اصل موضوع پر مزید تفصیلی تعلیمات حاصل کرنا ضروری ہے۔

Here is some other assignments solution….

Assignment No 2 Solution Course Code 209

Assignment No 1 Solution Course Code 209

Assignment No 2 Solution Course Code 211

Assignment No 1 Solution Course Code 211

Assignment No 3 Solution Course Code 215

Assignment No 2 Solution Course Code 215

Assignment No 1 Solution Course Code 215

Assignment No 2 Solution Course Code 218

Assignment No 1 Solution Course Code 218

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *