فالسہ اور جامن کی پیداوار ٹیکنالوجی کی خصوصیات پر مفصل نوٹ لکھیں۔

فالسہ

فالسے کا پھل جامنی رنگ کا ہوتا ہے ، پک جانے کے بعد اس کا رنگ سیاہ ہو جاتا ہے۔

کاشت

اس کی کاشت گرم اور نیم گرم دونوں علاقوں میں کی جاتی ہے سوائے پہاڑی علاقوں کے اس کی کاشت دیگر علاقوں میں بھی ممکن ہے۔ فالسے کو سب سے پہلے فلپائن میں 1914ء میں متعارف کرایا گیا۔  

کاشت کا طریقہ

فالسے کا پودا پیچ اور قلم سے تیار کیا جاتا ہے۔ فالسے کا بیچ بہت آسانی سے آگ آتا ہے۔ عموم فالسے کا پھل جون یا شروع جولائی میں پک جاتا ہے۔ بیج بونےکے لئے اعلی قسم کا پھل حاصل کرنا چاہیے۔ پھل استعمال کرنے کے بعد بیچ پانی سے دھو کو کر صاف کر لیں اور سایہ میں رکھ کر خشک کر لیں۔ پیچ حاصل کرنے کے بعد جلد کیاریوں میں بود بنا چاہئے اسے عموماً چھٹا کے طریقہ سے بویا جاتا ہے۔ تاہم کھیلیوں پر بھی بو یا جاسکتا ہے۔ فالسہ کا بیج تقریباً دوہفتوں میں اگ جاتا ہے۔ موسم گرما میں بوئے ہوئے۔ پیچ اگلے موسم کے شروع میں کھیت میں تبدیل کرنے کے قابل ہو جاتے ہیں

زمین

فالسہ کے پودے کا شمار بھی ان چند پھلدار پودوں میں ہوتا ہے جو ہر قسم کی زمین میں کامیاب پیداوار دے سکتے ہیں۔ فالسہ کی کاشت کے لئے کسی خاص قسم کی زمین کی ضرورت نہیں۔ تاہم پودے کے لئے تھوڑی کھاد بھی کافی ہے۔

جامن

غذائی اہمیت

جامن، پاکستان میں وافر مقدار میں پایا جاتا ہے۔ اس کا درخت کافی بلند ہوتا ہے یہ سدا بہار درخت ہے۔ جامن کے اندر کافی مقدار میں فولاد پایا جاتا ہےجو دل اور گردے کے امراض کے لئے بہت مفید ہے۔ اس کا بیج یا گٹھلی عام طور پر شوگر ( ذیا ہیں) کے مرض کی ادویات میں استعمال ہوتی ہے۔ جس سے مرض میں افاقہ ہوتا ہے۔

کاشت

جامن کا پودا ہر قسم کی زمین اور موسم میں لگایا جا سکتا ہے مثلاً تمام گرم اور نیم گرم علاقوں میں اس کی کاشت کی جاسکتی ہے۔

موسم

پھل اور پھول آنے کے لئے خشک موسم کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کا پھل پکنے کے لئے بارش بہت مفید ثابت ہوتی ہے۔ نوزائیدہ پھل کے لئے اولے بہت نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں جامن کی سب سے اچھی قسم راجہ جامن ہے۔ یہ ساخت میں لمبی اور گہرے جامنی رنگ کی قسم ہے۔

پیداوار

ابتدائی مرحلے میں جامن کے درخت کی شاخ تراشی ضروری ہے۔ اس کے پودے میں پھول مارچ تا اپریل میں آتے ہیں۔ اس کا پھل جون جولائی کے مہینے میں پک کر تیار ہو جاتا ہے۔ ایک درخت سے تقریباً 80 سے 100 کلو گرامفی پودا پھل حاصل ہوتا ہے۔

پھلدار پودوں میں موزوں آب و ہوا کی اہمیت وافادیت واضح کریں۔

آب و ہوا

درجہ حرارت ، روشنی، ہوا اور رطوبت ، یہ تمام عوامل آب و ہوا پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ دراصل بنیادی طور پر پھل دار پودوں کی بڑھوتری کے لئے 24 تا 375 ڈگری سینٹی گریڈ تک درجہ حرارت نہایت موزوں ہے۔ اگرچہ ہر پھل کے لئے درجہ حرارت مخصوص ہوتے ہیں مگر مندرجہ بالا شرح پھلوں کے لئے مناسب سمجھی جاتی ہے۔ آب و ہوا کی مناسبت سے پھل دار پودے یا درخت مختلف علاقوں میں کاشت کئے جاتے ہیں۔ کچھ پودے گرم مرطوب علاقوں میں پائے جاتے ہیں اور کچھ نیم گرم مرطوب علاقوں اور کچھ سرد علاقوں میں ۔

سورج کی روشنی پھلوں کی پیداوار میں خاص اہمیت کی حامل ہے۔ جیسے پھل کے پکنے ، زیر گی اور پھلوں کے معیار کو بہتر بنانے میں سورج کی روشنی کا بڑا عمل دخل ہے۔ اسی طرح رطوبت بھی پھلوں کی پیداوار اور بڑھوتری میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ چند پھلوں کو ہوا میں زیادہ رطوبت چاہئے لہذا وہ خشک / بنجر علاقوں میں بآسانی کاشت نہیں کئے جاسکتے۔ دوسری جانب بارش کی مقدار اور تقسیم فصلات پر قابل قدر اثرات مرتب کرتی ہے۔

عموماً پھول کھلنے اور پھل بننے کے وقت شدید بارشیں نہایت نقصان دہ ثابت ہوتی ہیں۔ لہذا ہر علاقے میں ہونے والی بارشوں کی مقدار اور دور اپنے کے مطابق ہی پھل دار فصلات کا اگاؤ ہونا چاہئے۔ ایسانہ ہو کہ یہی بارشیں فصلوں کو فائدے کی بجائے نقصان پہنچانے کا باعث بنیں۔ نیز تند و تیز ہوائیں بھی پھل دار پودوں کے لئے مضر ہیں اور انہیں تباہ کر دیتی ہیں۔ اس لئے باغات میں کاشت سے پہلے جامن سفیدے کے درختوں کو ہوا توڑ باڑھ کے طور پر لگا نا ضروری ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ برف باری اور طوفان سے بچانے کے لئے خصوصاً باغات کو ایسے علاقوں میں لگانے سے گریز کریں جہاں طوفان اور سیلاب آنے کا خطرہ ہو۔

پودے کی دوسری ضروریات مثلاً زمین، کھاد کا استعمال اور بوقت ضرورت آب پاشی ، انسان حتی الامکان پودے کی ضرورت کے مطابق مہیا کر سکتاہے۔ لیکن آب و ہوا کا شمار چونکہ قدرتی عوامل میں ہوتا ہے۔ جس میں تبدیلی انسان کی طاقت سے باہر ہے۔ لہذا باغ لگاتے ہوئے اس بات کا خیال رکھناچاہئے کہ جو بھی پھل دار پودے باغ میں لگائے جائیں وہ اس علاقے کی آب و ہوا میں بھر پور نشو و نما پاسکیں۔ آب و ہوا سے متعلق عوامل کی تفصیل درج ذیل ہے۔

بارش

بازش کی مقدار اور اس کے اوقات پھل دار پودوں میں بہت اہمیت کے حامل ہیں۔ پھل دار پودوں میں جب پھول نکل رہے ہوں تو اس وقت بارش کا ہونا انتہائی نقصان دہ ثابت ہوتا ہے کیونکہ اس سے پھول کے نر اور مادہ حصے ضائع ہو جاتے ہیں اور عمل زیر گی بری طرح متاثر ہوتا ہے۔ جس کے نتیجے میں پیداوار میں خاصی کمی واقع ہو جاتی ہے۔ بعض پھل مثلاً انگور ، کھجور وغیرہ میں پھل پکتے وقت اگر بارش ہو جائے تو پھل پھٹ کر ضائع ہو جاتا ہے اور باغبان کو بہت نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ کچھ پھل دار پودے مثلاً آڑو، بادام وغیرہ زیادہ بارش کی وجہ سے بری طرح متاثر ہوتے ہیں بلکہ اگر دو چار دن بارش کا پانی پودوں کے نیچے کھڑارہ جائے تو پودے مکمل طور پر ختم ہو جاتے ہیں۔

ہوا

اکثر پھل دار پودوں میں زیرگی کے عمل میں ہوا اہم کردار ادا کرتی ہے۔ ایسے پودوں سے اچھی پیداوار حاصل کرنے کے لئے مناسب ہوا کا ہونا بہت ضروری ہے لیکن بہت تیز ہوا بھی نقصان دہ ثابت ہوتی ہے۔ جس سے پودوں کی شاخیں ٹوٹ جاتی ہیں۔ پھولوں کے نر اور مادہ حصے جھڑ جاتے ہیں اور پھل کو بھی کافی نقصان پہنچتا ہے۔ ایسے علاقے جہاں تند و تیز ہوائیں چلتی ہوں ، وہاں دراز اقد درخت یا ایسے درخت جن کا پھل ہوا سے بآسانی جھڑ جائے، کاشت نہیں کرنے چاہئیں۔

درجه حرارت

یہ عمل آب و ہوا پر اثر انداز ہونے والے عوامل میں سب سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے جس کے ذریعے یہ اندازہ لگانا آسان ہے کہ آیا پھلوں کی کوئی بھی قسم کسی خاص جگہ کاشت ہو پائے گی یا نہیں۔ ہر پھل دار پودے کو مختلف حد تک سرد یا گرم درجہ حرارت کی ضرورت ہوتی ہے مثلاً موسم سرما میں کم درجہ حرارت اس لئے چاہئے تاکہ پھول بآسانی اور جلد کھل سکیں۔

اگر ایسا نہ ہو اور پودے کو خاص درجہ حرارت نہ مل سکے تو کونپلیں دیر سے کھلتی ہیں۔ پودے کی کلیاں کو نپلیں زیادہ عرصے میں پھلنے پھولنے کی اہلیت رکھتی ہیں جس کے نتیجے میں پھل کا سائز کم ہو جانے کے ساتھ ساتھ پھل دیر سے پکتا ہے۔ کلیوں کا دیر سے کھلنا پیداوار میں بھی کمی کا باعث بن سکتا ہے۔ جس طرح آب و ہوا کا اثر پودے کی نشو نما پیداوار پھل پکنے کے وقت، خاصیت ، پودے کی عمر اور صحت جیسے عناصر پر ہوتا ہے ، اسی طرح آب و ہوا میں درجہ حرارت پھل دار پودے کے مختلف حصوں کی بڑھوتری / بار آوری، پھول نکلنے اور پھل پکنے کے وقفہ اور انداز پر بھی اثر پذیر ہوتا ہے۔ اگر موسم بہار میں موسم جلد گرم ہو جائے تو پھول جلدی نکل آتے ہیں۔ اس کے برعکس اگر موسم دیر تک ٹھنڈا ر ہے تو پھول دیر سے نکلیں گے۔ بعض حالات میں درجہ حرارت پھل کی خاصیت پر خوشگوار اثر ڈالتا ہے۔

بیر سیب، خوبانی اور آڑو کی کامیاب کاشت کے لیے افزائش نسل کے طریقے تفصیل سے لکھیں۔

بیر کی افزائش نسل

پکے ہوئے پھل کی گٹھلیاں مارچ، اپریل میں گملوں یا پلاسٹک کے لفافوں میں زرخیز مٹی بھر کر بوئی جاتی ہیں جو 20 تا 25 دن کے بعد اگ آئیں گی۔ ان پودوں کو ستمبر اکتوبر سے لے کر فروری مارچ تک 25 تا 30 فٹ کے فاصلے پر کھیتوں میں لگایا جائے۔ ستمبر ، اکتوبر میں لگائے گئے پودے مارچ اپریل میں پیوند کے قابل ہو جاتے ہیں۔

افزائش کیلیے ٹی بڈنگ سب سے زیادہ کامیاب ہے۔ اس کے علاوہ گٹھلیاں زمین میں بطور نرسری لگائی جاسکتی ہیں۔ زمین میں لگائے ہوئے پودے اگست، ستمبر میں پیوند کاری کے قابل ہو جاتے ہیں۔ یہ پیوندی پودے نومبر ، دسمبر اور فروری، مارچ میں کھیت میں لگانے کے قابل ہو جاتے ہیں۔ پیوندی پور از مین میں لگانے کے بعد دیسی پوروں کو بھی آگے سے کاٹیں تاکہ مضبوط ہو جائے اس طرح پیوندی شاخ آندھی سے نہیں ٹوٹے گی۔

سیب کی افزائش نسل

پاکستان میں سیب کی نسلی افزائش نباتاتی طریقے سے بذریعہ چشمہ اور گرافٹنگ کی جاتی ہے۔ افزائش بذریعہ چشمہ عام طور پر موسم بہار کے آخر میں اور برسات میں کی جاتی ہے۔ جبکہ گرافٹنگ موسم سرما میں کی جاتی ہے۔ خصوصا سائیڈ گرافٹنگ زیادہ مشہور ہے۔ عام طور پر لوکل چھوٹا سیب بطور روٹ سٹاک استعمال کیا جاتا ہے ۔ البتہ ایسٹ مالنگ مرٹن 27,106,9 روٹ سٹاک III بطور (East نہایت کامیاب ثابت ہوئے ہیں۔ ان پر پیوند لگانے قدرے چھوٹے رہتے ہیں۔ پودا پھل زیادہ مقدار میں دیتا ہے اور نسبتاً جلدی تیار ہوتا ہے۔

خوبانی کی افزائش نسل

عام طور پر خو بانی بذریعہ بیج ہی کاشت کی جاتی ہے۔ جیسے ہی اس کے درخت پھل دینا شروع کر دیں تو پھل کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ اگر پھل اچھی کوالٹی، معیار کانہ ہو یا سائز میں چھوٹا رہ جائے تو ان درختوں کی دوسری لوکل اقسام کے ساتھ بذریعہ پیوند کاری افترائش نسل کی جاتی ہے۔ اسی لئے بہتر اور معیاری پھل حاصل کرنے کے لئے 60 تا 70 فیصد خوبانی کی افزائش نسل بذریعہ پیوند کاری کرنا آسان اور موزوں ہے۔ خوبانی عمومائی یا چپ پیوند کاری کے ذریعے کی جاتی ہے۔

آڑو کی افزائش نسل

آڑو کے روٹ سٹاک کی افزائش بذریعہ تخم کی جاتی ہے۔ صحیح نسل اور معیاری پود نے حاصل کرنے کے لئے نباتاتی طریقہ زیادہ موزوں ہے اور یہی طریقہ زیادہ استعمال میں آتا ہے۔ اس طریقے سے پودے حاصل کرنے کے لئے پہلے روٹ سٹاک تیار کئے جاتے ہیں۔

جن پر چشمہ یا پیوند کاری سے مخصوص قسم کی پیوند کاری کی جاتی ہے۔ قلم سے بھی ایسے پودے تیار کئے جاسکتے ہیں مگر روٹ سٹاک کچھ بیماریوں کو برداشت کرنے کی خاصیت کی وجہ سے پیوند کاری کے لئے زیادہ مناسب ہے۔ نرسری سے پودے حاصل کرتے وقت اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ پیوند صحیح لگا نا رکھناضروری گیا ہو اور پودے صحت مند ہوں۔

پاکستان کے شہر پشاور میں لوکل آڑو کی پنیریاں نہایت موزوں روٹ سٹاک کے طور پر استعمال کی جاتی ہیں۔ علاوہ از میں این اے آرمی (NARC) میں آڑو کے روٹ سٹاک GF677 نے پھل کی پیداوار اور معیار دونوں میں اضافہ کیا ہے۔

پھلوں کی مارکیٹنگ میں صنعت کا کردار اور اہمیت تفصیل سے بیان کریں۔

مارکیٹنگ میں پھلوں کی صنعت کا کردار

پھلوں کی صنعت ملکی معیشت کا نہایت اہم حصہ ہے۔ مارکیٹ میں یہ ایک منافع بخش کاروبار ہے۔ اگر چہ پھلوں کی کاشت کی تاریخ پاکستان میں کافی پرانی ہے لیکن تجارتی پیمانے پر پھلوں کی کاشت پچھلے تیس سال سے شروع ہوئی ہے۔ پاکستان آم ، مالٹا سنگترہ، کھجور ، امرود، کیلا، بیر ، انگور اور انار کی کاشت کے لیے مشہور ہے۔

ان پھلوں کے علاوہ سیب ، آڑو، آلوچہ ، بادام ، ناشپاتی اور خوبانی بھی بڑی حد تک کاشت کیے جاتے ہیں۔ چونکہ پاکستان میں خشک، گرم مرطوب، سرد اور پہاڑی علاقہ کی مختلف قسم کی آب و ہوا اور مقامات ہیں اس لیے مختلف اقسام کے پھل دار پودے کامیابی سے کاشت کیے جا سکتے ہیں۔ پاکستان ایک زرعی ملک ہے اور اس کی اقتصادی و معاشی ترقی کے لیے مستقبل میں زراعت اور صنعت کو یکساں ترقی دینا نہایت ضروری ہے۔

عوام کی صحت اور جسمانی نشو و نما کے لیے پھلوں کی صنعت خاص اہمیت رکھتی ہے۔ پھلوں کی ترقی میں سٹری یا ترشادہ پھلوں۔ سیب آم اور کیلے کو خاص اہمیت دی جاتی ہے۔ نیز پہاڑی علاقوں میں اعلیٰ قسم کے پھلدار پودے معمولی قیمت پر اور بعض اوقات مفت مہیا کیے جاتے ہیں تاکہ لوگوں میں پھلوں کی کاشت کا شوق پیدا ہوا آمدنی میں اضافہ ہو۔ پہاڑ میں عام فصلوں کی بجائے پھلدار پودے پیدا کرنا لوگوں کی معاشی حالت کو بہتر بنانے کا ایک ہے۔

مالٹا، کینو، کھجور ، یب اور آڑو جیسے پھلوں کو اس حد تک ترقی دی جاسکتی ہے کہ قومی ضروریات پوری کرنے کے بعد فاضل پھلوں کی پیداوار بیرونِ ممالک بھیجی جاسکتی ہے۔ حال ہی میں حکومت نے پھلوں کی برآمد کو ترقی دینے کے لیے 38 فی صد تک برآمدی بونس میں اضافہ کر دیا ہے۔ اس کی وضاحت یوں کی جاسکتی ہے کہ پھلوں کی برآمد کے لیے مشرق وسطی اور خلیج کی

ریاستوں کو خاص طور پر پاکستان کی برآمدی منڈی میں خاص اہمیت حاصل ہے۔ پھلوں کی مارکیٹنگ میں صنعت کا کردار اور اہمیت پھلوں کی منڈی کی ترقی اور پائیداری کے لیے کثیر جہتی اور اہم ہے۔ اس میں بہت سی سر گرمیاں شامل ہیں جن کا مقصد پھلوں کو پیدا کرنے والوں سے صارفین تک موثر اور مؤثر طریقے سے پہنچانا ہے۔ پھلوں کی مارکیٹنگ میں صنعت کے کردار اور

اہمیت کے اہم پہلو یہ ہیں

جمع اور تقسیم

صنعت متعدد پروڈیوسروں سے پھلوں کو جمع کرنے، ایک مستحکم سپلائی چین کو یقینی بنانے، اور انہیں مختلف منڈیوں میں موثر طریقے سے تقسیم کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اس میں پھلوں کو جمع کرنا، چھاٹنا، درجہ بندی کرنا اور پیکنگ کر نا شامل ہے۔ موثر جمع اور تقسیم کے نیٹ ورکس نقل و حمل کے اخراجات کو کم کرنے، ضیاع کو کم کرنے اور اس بات کو یقینی بنانے میں مدد کرتے ہیں کہ پھل بہترین حالت میں صارفین تک پہنچیں۔

کوالٹی ایشورنس: پھلوں کی صنعت کوالٹی ایشورنس کے مختلف اقدامات کو لاگو کر کے پوری سپلائی چین میں کوالٹی کنڑول کو یقینی بناتی ہے۔ اس میں فوڈ سیفٹی کے معیارات، سرٹیفیکیشن پروگرامز ، اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے سخت معائنہ شامل ہے کہ پھل مطلوبہ معیار کے معیار پر پورا اترتے ہیں۔ مستقل معیار کو برقرار رکھنے سے صارفین کا اعتماد بڑھتا ہے ، پھلوں کی مارکیٹ میں ساتھ بڑھ جاتی ہے ، اور دوبارہ خریداری کی حوصلہ افترائی ہوتی ہے۔

ذخیرہ اور تحفظ

پھلوں کی صنعت اکثر پھلوں کی شیلف لائف کو بڑھانے کے لیے ذخیرہ کرنے اور محفوظ کرنے کی سہولیات کو شامل کرتی ہے، خاص طور پر ان کے لیے جو خراب ہو جاتے ہیں یا ان کی موسمی دستیابی ہوتی ہے۔ کولڈ سٹوریج کی سہولیات، کنڑول شدہ ماحول کا ذخیرہ، اور دیگر محفوظ کرنے کی تکنیکوں کا استعمال پھلوں کی تازگی اور معیار کو برقرار رکھنے کے لیے کیا جاتا ہے ، جس سے وہ ان کی کٹائی کے موسم سے آگے صارفین کے لیے دستیاب ہوتے ہیں۔

مارکیٹ ریسرچ اور صارفین کی بصیر تیں: صنعت ن کے کھلاڑی صارفین کی ترجیحات کی نشاندہی کرنے ، رجحانات کا تجزیہ کرنے اور پھلوں کے استعمال کے نمونوں کے بارے میں بصیرت جمع کرنے کے لیے مارکیٹ ریسرچ کرتے ہیں۔ یہ ڈیٹا صارفین کے بدلتے ہوئے مطالبات کو سمجھنے ، مصنوعات کی اختراعات کو فروغ دینے اور مؤثرمارکیٹنگ کی حکمت عملیوں کو ڈیزائن کرنے میں مدد کرتا ہے۔ یہ مارکیٹ کے نئے حصوں یا بر آمدی مواقع کی نشاندہی کرنے میں بھی مدد کرتا ہے ، اس طرح پھلوں کی مارکیٹنگ کی رسائی اور منافع کو بڑھاتا ہے۔

برانڈنگ اور پروموشنز

صنعت ایسے برانڈ ز بنا کر اور فروغ دے کر پھلوں کی مارکیٹنگ میں حصہ ڈالتی ہے جو صارفین کے ساتھ گونجتے ہیں۔ برانڈ ز ا یک امتیازی عصر کے طور پر کام کرتے ہیں اور بازار میں پھلوں کی ایک منفرد شناخت قائم کرنے میں مدد کرتے ہیں۔ مارکیٹنگ کی مہمات، اشتہارات اور پروموشنز کا استعمال بیداری پیدا کرنے ، صارفین کی وفاداری پیدا کرنے ، اور مانگ ہے کیا جاتا ہے۔ موثر برانڈنگ اور پروموشن پھلوں کی فروخت اور مارکیٹ شیئر میں اضافہ کرتے ہیں۔

برآمد اور بین الاقوامی تجارت

پھلوں کی صنعت بین الاقوامی منڈیوں میں پھلوں کی برآمد کو فروغ دینے اور سہولت فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اس میں بین الاقوامی تجارتی ضوابط کی تعمیل ، تجارتی معاہدوں پر گفت و شنید ، اور عالمی صارفین کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے سپلائی چین لاجسٹکس کو بڑھانا شامل ہے۔ برآمدی منڈیاں آمدنی پیدا کرنے کے لیے اہم مواقع فراہم کرتی ہیں، اور صنعت بین الاقوامی صارفین تک پھل پیدا کرنے والوں کی رسائی کو بڑھانےمیں مدد کرتی ہے۔

اقتصادی ترقی اور روزگار

پھلوں کی مارکیٹنگ کی صنعت اسٹیک ہولڈرز کے وسیع میدان میں آمدنی کے مواقع فراہم کر کے معاشی ترقی میں حصہ ڈالتی ہے۔ یہ کسانوں، مزدوروں، مارکیٹرز، تقسیم کاروں، اور پھلوں کی پیداوار ، پروسیسنگ اور مارکیٹنگ میں شامل دیگر مختلف پیشہ ور افراد کے لیے روز گار کے مواقع پیدا کرتا ہے۔ صنعت کی ترقی اور منافع میں اضافہ معاشی سر گرمی، ملازمت کی تخلیق، اور مجموعی اقتصادی ترقی میں ترجمہ کرتا ہے۔

خلاصہ یہ کہ پھلوں کی مارکیٹنگ میں صنعت کا کردار اور اہمیت جمع، تقسیم، کوالٹی ایشورنس، اسٹوریج، تحفظ ، مارکیٹ ریسرچ، برانڈ نگ ، پروموشنز، ایکسپورٹ کی سہولت ، معاشی نمو، اور روزگار پیدا کرنے پر مشتمل ہے۔ یہ سر گرمیاں اجتماعی طور پر پھلوں کی منڈیوں کے موثر کام میں حصہ ڈالتی ہیں ، صارفین کو اعلیٰ معیار کے پھلوں کی دستیابی کو یقینی بناتے ہوئے پھلوں کی صنعت کی ترقی اور پائیداری کو آگے بڑھاتی ہیں۔ STUDIO

درج ذیل پر مختصر نوٹ لکھیں۔

سرخ مائٹس

جواب پہچان اور نقصان کرنے کے طریقے

اس کیڑے کی مادہ گول اور جسامت میں پن کے سرے کے برابر ہوتی ہے۔ اس کارنگ سرخ ہوتا ہے۔ ترشاوہ پھلوں کے علاوہ یہ کیڑے اور بہت سے درختوں پر بھی پائے جاتے ہیں جن میں انجیر ، امرود ، انگور ، جامن اور شہتوت وغیرہ شامل ہیں۔ یہ کیڑے بڑی تعداد میں پودوں کے مختلف حصوں مثلاً نرم ٹہنیوں، پتوں، شگوفوں اور پھلوں پر حملہ کر کے رس چوستے ہیں حملہ شدہ پتوں پر نارنجی رنگ کے دھبے پڑ جاتے ہی

ں۔ جس کے نتیجے میں پتے سوکھ کر گرنا شروع ہو جاتے ہیں۔ گرمیوں میں اس کیڑے کی آبادی بہت بڑھ جاتی ہے۔ اس کیڑے کے شدید حملے کی صورت میں پودوں پر پھل لگنا بند ہو جاتے ہیں۔ سرخ مائٹس کیڑے ایک خاص قسم کا مادہ خارج کرتے ہیں۔ جس سے سیاہ رنگ کی پھپھوندی لگ جاتی ہے اس کے علاوہ یہ کیڑے اپنے جسم سے ایک طرح کی موم بھی خارج کرتے ہیں جس کی مدد سے وہ اپنے جسم کو حفاظتی چھلکوں سے ڈھک لیتے ہیں۔

 روک تھام

جن پودوں پر اس کیڑے کا حملہ دکھائی دے فوراً ان کی متاثرہ ٹہنیوں کی کاٹ چھانٹ کر کے جلادیں۔

بیٹا ٹاکس ایک لیٹر 0.4 ہیکٹر (فی ایکٹر 1000460 گیلین ) پانی میں حل کر کے سپرے کریں اور اسپرے پھول نکلنے سے پہلے کریں۔

مثلث نظام

جواب: مثلث نظام میں مستطیل نظام رائج کرنے کے بعد ہر مستطیل کو ترچھا کاٹتے ہوئے درمیان میں ایک پودا مزید لگایا جاتا ہے۔ اس نظام کے تحت مستطیل نظام سے 50 سے 60 فیصد زائد پودے لگائے جاتے ہیں مگر دوسری طرف پودوں کے بڑھنے کی شرح باغ کے کل رقبہ پر منحصر ہے۔ اس نظام کے تحت بعد میں پودوں کی تعداد بڑھ جانے سے زرعی اقدامات کرنے میں دشواری ہوتی ہے۔ اس لیے یہ نظام عام کا شکار میں اتنا مقبول نہیں اور اسے کم استعمال میں لایا گیا ہے۔

You May Also Like To Read….

Assignment No 1 Solution Course Code 220

Assignment No 1 Solution Course Code 219

Assignment No 2 Solution Course Code 219

Assignment No 1 Solution Course Code 217

Assignment No 2 Solution Course Code 217

SSC Pariksha Result 2024

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *