AIOU: Assignment No 1 Solution Course Code 206

کنگھی کی صفائی کس طرح کی جاتی ہے؟

کنگھی کی صفائی کے لئے درج ذیل اقدامات کی جا سکتی ہیں

روزانہ صفائی:

ہر روز کنگھی کو صفا کرنا اہم ہے. کنگھی کی چہری کو صابن یا کنگھی کی صاف کرنے والے خصوصی پروڈکٹس سے دھوئیں.

اپنی کنگھی کو ٹوٹکے یا کھسکی چھڑک کر خشک کریں تاکہ بیکٹیریا اور گندگی کا اختلاف ہو سکے.

کلیننگ پروڈکٹس استعمال کریں:

مختلف کنگھی صفا کرنے والے پروڈکٹس جیسے کہ کنگھی کلینرز یا کنگھی واشز کا استعمال کریں.

لیموں کا استعمال:

لیموں کا رس یا لیموں کے چھلکے کو کنگھی پر رگڑیں. لیموں کی خصوصیات کنگھی کو چمکا دیتی ہیں اور بدبودار گیسوں کو ختم کرتی ہیں.

سوڈا بیکنگ:

سوڈا بیکنگ ایک ممتاز کینچلینگ ایجنٹ ہے. اسے پانی میں ملا کر کنگھی کو صاف کرنے کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے.

نمک:

نمک بھی کنگھی کی صفائی کے لئے مددگار ہوتا ہے. نمک کو صاف کنگھی پر چھڑک کر رگڑیں اور پھر دھویں.

خشکی:

کنگھی کو خشک رکھیں تاکہ گیسیں نہ بنیں اور گندگی کا اختلاف ہو.

کنگھی کا استعمال:

کنگھی کا استعمال صفا کرنے کے لئے ہر روز مختلف کپڑوں یا منسلک کپڑوں کے ساتھ کریں تاکہ کنگھی صفا رہے.

یہ تمام اقدامات مددگار ہوتی ہیں کنگھی کی صفائی میں.

ذاتی صفائی سے کیا مراد ہے؟

“ذاتی صفائی” کا مطلب ہے کسی شخص یا فرد کی اپنی شخصیت اور عملی ہوشیاری سے متعلق ہوتا ہے۔ یہ ایک اصطلاح ہے جو ایک فرد کے اپنے اعمال، اخلاقی اصول، اور ذہانت کے پیدا ہونے پر مبنی ہے۔ ذاتی صفائی میں شامل ہوتی ہیں مختلف خصوصیات جیسے کہ ایمانداری، ایمان، خود کنٹرول، اور دوسرے لوگوں کے ساتھ اچھے تعلقات بنانے کا صلاحیت۔

ذاتی صفائی کا تجربہ ہر شخص کی زندگی میں مختلف ہوتا ہے اور یہ افراد کو اپنی اہمیتوں، مقصدوں، اور زندگی کے مقامات کو بہتر سمجھنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔ یہ ایک تربیتی عمل ہوتا ہے جو شخص کو اپنی قدرتی خصوصیات اور مواهب کو پہچاننے، انہیں بڑھانے، اور دوسرے لوگوں کے ساتھ مشترک کرنے کے لئے مشتعل کرتا ہے۔

ذاتی صفائی کی پیداوار ایک مداخلت پذیر، محتاط، اور سوچی سمجھی شخصیت کو بناتی ہے جو زندگی کی مختلف پہلوؤں کو سامنا کرنے میں مدد فراہم کرتی ہے۔

جراثیم کش ادویات پر مختصر نوٹ لکھیں ۔

تعریف

جراثیم کش ادویات وہ مواد ہیں جو مختلف قسم کی جراثیم، بیکٹیریا، اور وائرس کو مار کر یا ان کے پیش روکنے میں مدد فراہم کرتی ہیں۔

انواع

آنٹی بائیوٹکس: بیکٹیریائی انفیکشنز کے علاج میں استعمال ہوتے ہیں جیسے کہ پینسلن، ایماکسیل، اور سیپروفلوکساسن

آنٹی وائرل اجنتس: وائرل انفیکشنز کے خلاف جدوجہد میں مدد فراہم کرتے ہیں، جیسے کہ اسٹینز، اوسلٹامیویر، اور لوپینیویر

آنٹی فنگل اجنتس: قرار دیے گئے فنگس (کھجور، کھول، نخود، میکروسپوریا) کیلئے موثر ہیں، جیسے کہ فلوکونازول اور کلوٹرمائیسول

عمل اور میکانیزم

جراثیم کش ادویات جراثیم کی سلسلے میں مختلف طریقوں سے کام کرتی ہیں، جیسے کہ بیکٹیریائی خلیوں کی دیوار کو مستقیم متاثر کرنا یا ان کے تقسیم یا رشد کو روکنا

استعمالات

جراثیم کش ادویات مختلف امراض کے علاج اور روکتے میں استعمال ہوتی ہیں، جیسے کہ جلدی اور نظامی انفیکشنز، چھینکنے اور کھانسی، یوٹائی کھچھکرا، اور دانتوں کی امراض

تحذیرات اور محدودیتیں

متعدد جراثیم کش ادویات کا بے جا استعمال جراثیم کی مضر تبدیلیوں کا باعث بن سکتا ہے اور مقاومتی جراثیم کی پیداوار میں اضافہ کر سکتا ہے۔

جراثیم کش ادویات کا صحیح استعمال، ڈاکٹر کی ہدایتوں پر عمل، اور چکاچونگے کرنے کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ ممکنہ متنازعہ اثرات سے بچا جا سکے

ٹائیفائیڈ سے بچنے کے لیے کیا حفاظتی اقدامات کیے جاسکتے ہیں؟

ٹائیفائیڈ سے بچنے کے لئے آپ کچھ حفاظتی اقدامات اپنا سکتے ہیں۔ یہاں کچھ عام تراکیب دی گئی ہیں

گاڑی کی حفاظت

گاڑی کو محفوظ جگہ پر پارک کریں۔

گاڑی کی چابی چھپا کر رکھیں اور سیلسٹرٹر کو

اگر گاڑی میں ٹائیفائیر ہیں تو انہیں محفوظ جگہ پر رکھیں۔

ٹائیفائیڈ الرٹ سسٹم

ٹائیفائیڈ الرٹ یا ایلرم سسٹم لگوائیں۔

ٹائیفائیڈ کے چور کو روکنے کی لئے آڈیو الرٹ یا گاڑی کو ہلکی جھٹکے دینے والے الرٹ سسٹم کا استعمال کریں۔

ٹائیفائیڈ لاکس

ٹائیفائیڈ لاکس یا وہرلیکس لاکس استعمال کریں۔

یہ لاکس گاڑی کے سسٹم میں جڑا ہوتا ہے اور صاحب گاڑی کو ٹائیفائیڈ کے حوالے سے آگاہ کرتا ہے۔

ٹائیفائیڈ ٹریکر

ٹائیفائیڈ ٹریکر گاڑی میں لگایا جاتا ہے اور یہ آپ کو گاڑی کی موقع کا تعین کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔

اس سے آپ اپنی گاڑی کو ریموٹ سے بھی منظور کر سکتے ہیں۔

آپریشنل حفاظت

گاڑی کے سسٹم کو بروقت چیک کریں اور ہر طرح کی خرابیوں کو فوراً درست کریں۔

گاڑی کے چابیوں کو ہمیشہ ہمراہ رکھیں اور ان کی مدد سے گاڑی کا استعمال کریں۔

بہترین پارکنگ

گاڑی کو چوروں کے لئے آسان پہنچنے والی جگہوں پر نہیں بلکہ روشنی میں اور جمعہ جمعہ جمعہ پرک کے قریب پارک کریں۔

اہم ڈوکیومنٹس کی حفاظت

گاڑی کے ڈوکیومنٹس، جیسے کہ رجسٹریشن بک اور انشورنس کا ڈاکیومنٹ، محفوظ جگہ میں رکھیں۔

ہمیشہ تیار رہیں

گاڑی کے چابیوں کی جگہ، بیٹری، اور دوسرے اہم اقدامات کو برقرار رکھیں تاکہ گاڑی ہمیشہ تیار رہے۔

ان حفاظتی اقدامات کو اپنانے سے آپ اپنی گاڑی کو ٹائیفائیڈ سے بچا سکتے ہیں۔

انفلوئنزا کی علامات اور بچاؤ کی تدابیر تحریر کریں۔

انفلوآنزا (Flu) ایک متداول بیماری ہے جو کہ خصوصاً سرد موسموں میں پائی جاتی ہے۔ یہ ایک وائرس کی بنا پر ہوتی ہے اور عام طور پر خفیف سے شدید متاثرہ کر سکتی ہے۔ یہاں انفلوآنزا کی علامات اور بچاؤ کی تدابیر دی گئی ہیں:

انفلوآنزا کی علامات

بخار افتتاحی مراحل میں بخار ہوتا ہے جو اکثر تیزی سے بڑھتا ہے۔

سردی، نزلہ، اور کھانسی انفلوآنزا کے مرض میں ہونے والی کھانسی اور نزلہ اہم علامات ہیں۔

ٹھکانے میں درد جسم کے مختلف حصوں میں درد ہوتا ہے۔

تھکاوٹ بے چینی اور زہرہ خیزی کا احساس ہوتا ہے۔

دماغی لہوالہ سرد موسموں میں ہونے والی بیماریوں کی علامات میں سے ایک ہے۔

بچاؤ کی تدابیر

ویکسینیشن انفلوآنزا کے خلاف ویکسینیشن ایک بہترین بچاؤ ہے۔ ویکسین سالانہ آپ کو انفلوآنزا کے مختلف قسموں سے بچانے میں مدد کرتی ہے۔

ہاتھ دھونا اور ہاتھوں کو صاف رکھنا اپنے ہاتھوں کو بار بار صاف کریں اور انہیں چہروں، آنکھوں اور منہ کو چھونے سے پہلے دھوئیں۔

بچوں کو ہمیشہ گرم رکھیں سرد موسم میں بچوں کو گرم رکھنا اہم ہے۔

علیحدہ رہیں اگر آپ انفلوآنزا کے علامات محسوس کر رہے ہیں تو دوسرے لوگوں سے علیحدہ رہیں تاکہ وائرس دوسروں تک نہ پہنچے۔

چھینکیں اور کھانسیں ہینڈکرچیف یا المر چھپیں اپنی چھینکیں اور کھانسیں ہینڈکرچیف یا المر سے ڈھانپیں تاکہ دوسروں کو متاثرہ نہ کریں۔

انفلوآنزا کے مرض سے بچنے کے لئے اہم ہے کہ آپ صحت مند عورت، بچوں اور بوڑھوں میں ہونے والی ویکسینیشن کا استعمال کریں اور صحتمند ہونے کے باوجود بھی ہاتھ دھونا اور ہاتھوں کو صاف رکھنا جاری رکھیں۔

بالوں میں جوئیں پڑنے کی صورت میں کیا کرنا چاہیے نیز کانوں کی صفائی کے متعلق تحریر کریں

بالوں میں جوئیں پڑنے کی صورت میں

شامپو کریں: بالوں کو منظم طور پر شامپو کریں تاکہ جوئیں یا رینچ نکل جائیں۔ زیادہ تر شامپو میں انٹی-جوئیں سالسلی کی جاتی ہے، جو جوئیں کو ختم کرنے میں مدد فراہم کرتی ہے۔

جوئیں ختم کرنے کے لئے مخصوص شامپو استعمال کریں: جوئیں ختم کرنے کے لئے مخصوص شامپوز بھی دستیاب ہیں، جنہیں آپ مختصر مدت میں استعمال کرکے جوئیں ختم کر سکتے ہیں۔

تیزابیں استعمال کریں: مختلف تیزابیں جوئیں ختم کرنے میں مدد فراہم کرتی ہیں، جیسے کہ سرکہ، لیموں کا رس، یا نیم کا تیل۔

کمب کریں: بالوں کو کمب کرنے سے جوئیں نکلنے میں مدد ملتی ہے اور بالوں کی سردی بڑھتی ہے۔

بالوں کو چھوٹا رکھیں یا بال کٹوائیں: بالوں کو چھوٹا رکھنا یا بال کٹوانا جوئیں کو ختم کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے، چونکہ جوئیں بالوں کی چھپائیوں میں پوشیدہ رہتی ہیں۔

کانوں کی صفائی کے متعلق

کانوں کو روزانہ صاف کریں: گندگی، موم، یا دوسرے ذرات کے اخراج کے لئے کانوں کو روزانہ صاف کریں۔

کانوں کو چھوڑیں: کانوں کو چھوڑنا بھی اچھا ہوتا ہے، کیونکہ ایسا کرنے سے کانوں کی تنظیف ہوتی ہے اور ہمیشہ تازگی بنی رہتی ہے۔

گرم پانی کا استعمال: گرم پانی کی بوتل کو چھوڑیں یا کانوں کو گرم پانی سے دھوئیں تاکہ کانوں میں گندگی اور موم گل جائیں۔

کانوں میں چھینکنا متجنب کریں: کانوں میں چھینکنا یا شارجنا جانچنا اچھا ہوتا ہے تاکہ ایکسیسیو پریشانی سے بچا جا سکے۔

اگر جوئیں یا کانوں میں کسی مسئلے کا سامنا کر رہے ہیں، تو بہتر ہے کہ فوراً ڈاکٹر سے مشورہ لیا جائے۔

پہننے والے کپڑوں کی صفائی کیوں ضروری ہے نیز نو نہال کی صفائی کے بارے میں لکھیں۔

پہننے والے کپڑوں کی صفائی

صحت کی حفاظت: پہننے والے کپڑوں کی صفائی سے بیماریوں اور جلدیں خراب ہونے والی موادوں کا خاتمہ ہوتا ہے۔ صاف اور صحتمند کپڑے پہننا جلد کے سیحرا کو بڑھاتا ہے اور الرجیز کا خطرہ کم ہوتا ہے۔

بویائیں ختم کرنا: صفائی نہ سرف بویائیں ختم کرتی ہے بلکہ میکانیکل چیزیں جو بو گناہی ہوتی ہیں، جیسے کہ گندگی، عرق، یا دھویا نہ ہوا کپڑا، انسانی بوں کو بھی ختم کرتی ہے۔

مظاہرے کی بہتری: صفا ست ہوئے کپڑے اچھی طرح سے دیکھتے ہیں اور اچھا مظاہرہ کرتے ہیں۔ چہرے کے بہترین حصے کو مظبوطی دینے والے کپڑے ہمیشہ اچھے لگتے ہیں۔

پردے کا حفاظت: خاص طور پر خودیوں اور دھاتوں کی پردوں کیلئے صفا کپڑے ضروری ہیں۔ یہ ان کی جمال کو بڑھاتے ہیں اور انہیں محفوظ رکھتے ہیں۔

دیرپزیرائی کیلئے: صفائی سے بچوں کے کپڑوں کی دیکھ بھال ہوتی ہے اور وہ دیرپزیرائی سے کپڑے بچھڑے ہوتے ہیں۔

نو نہال کی صفائی

صحت کی حفاظت: نو نہال کی صفائی کرنا صحتمندی اور بیماریوں سے بچاؤ کے لئے ضروری ہے۔ چیزوں پر جمع ہونے والی گندگی اور کیچڑ سے بچنے کیلئے ہمیشہ نو نہال کو صاف رکھیں۔

خوراک کی بہتری: نو نہال کی صفائی سے ہم یہ یقینی بناتے ہیں کہ ہماری خوراک صاف ہوتی ہے اور ہم صحتمند غذائیں استعمال کر رہے ہیں۔

ماحول کی حفاظت: نو نہال کی صفائی سے ماحول کی حفاظت ہوتی ہے اور ہم اپنے ہمارے گرد کے ماحول کو صحتمند رکھتے ہیں۔

تجدیدی استعمال: صاف نو نہال کو دوبارہ استعمال کرنا ماحول کے لحاظ سے بہترین ہوتا ہے اور پلاسٹک کی تدابیر کم ہوتی ہیں۔

سبزیوں اور پھلوں کو دھونے کیلئے: نو نہال سے پانی کی صفائی کرنا سبزیوں اور پھلوں کو دھونے میں بہترین طریقہ ہے تاکہ گندگی اور زہریلے مواد سے بچا جا سکے۔

نوزائیدہ بچے کی صفائی اور مریض کی صفائی کس طرح کرنی چاہیے؟ مفصل تحریر کریں۔

نوزائیدہ بچے کی صفائی

دنیاپیچے کریں: نوزائیدہ بچوں کی صفائی میں دنیاپیچے کرنا بہت اہم ہے۔ نے نہال کی بدبودار باتیں جو اگر نظافت نہ کی جائیں تو بچے کو پریشانی میں ڈال سکتی ہیں۔

کھانے کی ترتیب: نوزائیدہ بچوں کی صفائی میں اچھی خوراک بھی شامل ہے۔ بچوں کو پانی، فلیوں کا رس، کھیرا، اور دال وغیرہ کا استعمال کرنا چاہیے تاکہ معدہ صحتمند رہے اور صفائی بہتر ہو۔

دھونے کی عادت: نوزائیدہ بچوں کو صفائی کے حوالے سے دھونے کی عادت دینا بہتر ہوتا ہے۔ دنیاپیچے کرنے کی عادت ان کو صفائی کی اہمیت سکھاتی ہے۔

پوٹی ٹریننگ: جب بچہ بڑھتا ہے تو اسے پوٹی ٹریننگ دینا چاہئے تاکہ وہ صفائی کی عادت بنائیں اور چھڑائیوں میں صفائی کا خیال رکھیں۔

صفائی کے آلات: بچوں کو صفائی کے آلات، مثلًا صابن، ٹوٹھ برش، اور ہینڈ واش، استعمال کرنے سیکھانا چاہئے تاکہ وہ خود بھی صفائی کر سکیں۔

مریض کی صفائی

پانی کا زیادہ استعمال: مریض کو زیادہ سے زیادہ پانی پلانا چاہئے تاکہ جسم میں زیادہ سے زیادہ مایوسٹر ہو۔ یہ مدد کرتا ہے کہ جسم سے زیادہ طریقے سے وائرس یا بیماری کو خارج کیا جا سکے۔

صفائی کے لئے برف: اگر مریض کا ٹھنڈا ہونا ممکن ہو تو اسے برف کے ٹکڑے استعمال کرنا چاہئے۔ یہ جسم کی گرمی کم کرتا ہے اور سردی لگتی ہے۔

صفائی کے دوائیں: مریض کو ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق صفائی کے دوائیں لینی چاہئیں۔ یہ عام طور پر خصوصاً سردیوں میں زیادہ موسلا کے لیے مدد فراہم کرتی ہیں۔

ہوا بھرنا اور باہر نکلنا: مریض کو ہوا بھرنا اور باہر نکلنا بہترین ہوتا ہے۔ یہ اس کے جسم کو تازگی دیتا ہے اور بہتری کرنے میں مدد کرتا ہے۔

صفائی کے لئے چائے: چائے میں ہلدی اور ادرک شامل کرنا بھی مریض کو صفائی میں مدد فراہم کرتا ہے۔

اسہال پر مفصل نوٹ تحریر کریں۔

اسہال (Diarrhea) پر مفصل نوٹ

تعریف

اسہال، جسے دیسی زبان میں “دھڑا” یا “پیچش” بھی کہا جاتا ہے، ایک طبی حالت ہے جس میں ایک شخص کی بے ترتیب ہونے والے پیشاب پھیپھڑوں (انٹیسٹائن) سے مقدار زیادہ میں پانی، ملاوٹ، یا موادے خارج ہوتی ہیں۔

اسہال کی وجوہات

بیماریوں کی بنا پر: بیکٹیریائی، وائرل، یا پارازائٹک انفیکشن سے ہو سکتا ہے.

غذائیں زہریلیں: غیر صاف یا خراب خوراک کی بنا پر اسہال ہوتا ہے.

خوابصورت: ایک طرفہ خوراک یا دوسری طرفہ موادے کی بنا پر بھی ہوتا ہے.

معدہ کی بیماریاں: جیسے کہ چربی اور انفلیمیٹری بولی بمقابلہ (Inflammatory Bowel Disease – IBD).

دوائیں: مختلف دوائیں اسہال کا باعث بن سکتی ہیں، جیسے کہ اینٹی بائیوٹکس.

علامات

زیادہ پانی کا استعمال: اسہال میں جسم سے زیادہ پانی کی نکاسی ہوتی ہے، جس سے جسم میں مایوسٹر کم ہوجاتا ہے.

ہلکا دھوپ: اسہال کے باعث جسم میں مایوسٹر کم ہونے کے باوجود ہلکی دھوپ ہوتی ہے۔

مایوسٹر کا رنگ: اسہال میں مایوسٹر کا رنگ زرد یا ہلکا سبز ہوتا ہے جو بیلی رنگ سے مختلف ہوتا ہے۔

درد: معدہ یا پیشاب فعل کے دوران درد ہوسکتا ہے۔

بچاؤ اور علاج

پانی کی مدد: بڑھتی ہوئی مایوسٹر کی کمی کو مد نظر رکھتے ہوئے زیادہ سے زیادہ پانی پیئیں۔

الیکٹرولائٹس کی بھرپوری: الیکٹرولائٹس کی کمی کو پورا کرنے کیلئے اینٹی-اسہال دوائیں، جیسے کہ O.R.S.، کا استعمال کریں۔

صحتمند خوراک: ملوث یا ناپاک خوراک سے بچیں اور صحتمند غذائیں استعمال کریں۔

ڈاکٹر کی مشورہ: اگر اسہال میں بچر کا فرق نہیں آ رہا یا حالت بگڑتی ہے تو فوراً ڈاکٹر سے رابطہ کریں۔

نوٹ: اگر کسی کو ایک ہفتے سے زیادہ وقت تک اسہال ہو رہی ہے یا اگر اسہال میں خون آ رہا ہے تو فوراً طبی مدد حاصل کریں۔

تپ دق کا مرض کیا ہے نیز اس کی علامات اور حفاظتی تدابیر تحریر کریں۔

تپ دق (Typhoid Fever) کا مرض

تعریف
تپ دق ایک باکٹیریائی مرض ہے جو سلمونیلا ٹائفی باکٹیریا کی بنا پر ہوتا ہے۔ یہ بیماری بندرے کے گوشت یا گرم خوراکوں سے منتقل ہوتی ہے اور یہ عموماً گرموں اور تروتازہ ملکوں میں پایا جاتا ہے۔

علامات

تپ: بلند تپ چلنا اور معمولاً دنیاپیچے کرنا۔

سردی: تپ دق کے مرضیں میں سردیاں ہوتی ہیں۔

دماغی تشویش: دماغی تشویش یا ہلچل ہوتی ہے۔

بکھراہٹ: مریض کو چہرے پر چمک، بکھراہٹ، یا زردی کی بنا پر بے نشانیاں ہوتی ہیں۔

پیشاب کا رنگ: پیشاب کا رنگ گہرا ہوجاتا ہے اور گرے یا خاکستری ہوتا ہے۔

معدہ درد: معدہ میں درد اور پیٹ بھرا ہوا محسوس ہوتا ہے۔

حفاظتی تدابیر

صفائی: صاف ہاتھوں سے خوراک تیار کرنا اور ہر دم صفائی میں مدد فراہم کرنا بہترین حفاظتی تدابیر میں شامل ہے۔

خوراکیں: خوراکوں کی صفائی میں خصوصی خیال رکھیں اور گرم خوراکوں، پانی میں گرمی، اور سچے فلالے سے بچیں۔

ٹائفائیڈ ٹیکا: اس مرض سے بچاؤ کیلئے ٹائفائیڈ ٹیکا لگوانا بہترین حفاظتی تدابیر میں شامل ہے۔

ہاتھ دھوائیں: خوراک بنانے، کھانے سے پہلے، اور ٹائلٹ جانے کے بعد ہر دم ہاتھ دھونا بہتر ہوتا ہے۔

پانی: صاف پانی استعمال کریں اور مواقع پر ہمیشہ پانی کو پیشابی اور گندگی سے دور رکھیں۔

صحتمندی: صحتمندی کے حفاظتی تدابیر، جیسے کہ ذیابیطس اور دیگر بیماریوں کا خیال رکھنا، بھی بہترین حفاظتی تدابیر میں شامل ہوتے ہیں۔

نوٹ: اگر کسی کو تپ دق کی شکایت ہوتی ہے تو فوراً ڈاکٹر سے مشورہ حاصل کریں اور معالجہ کروائیں۔

بیکٹریا سے پھیلنے والے کوئی سے دو امراض کے بارے میں لکھیں۔

1. سالمونیلا انفیکشن

وجوہات

بیکٹیریا: سالمونیلا بیکٹیریائیں زیرہ اور گرم میوہ جات میں پائی جاتی ہیں۔

منبع: زیرہ، انڈے، گوشت، اور دودھ سے منتقل ہوسکتی ہے۔

علامات

تپ، دنیاپیچے، ہلکا سردی، معدہ درد، اور دہوئیں کی بنا پر میتھے کا زیادہ استعمال کیلئے خصوصی ذائقہ۔

حفاظت

صفائی میں مدد فراہم کریں۔

مواقع کی صفائی برقرار رکھیں۔

خوراک کی صفائی پر خصوصی خیال رکھیں۔

2. ایسیریشیا کولائی انفیکشن

وجوہات

بیکٹیریا: ایسیریشیا کولائی بیکٹیریائیں گائے یا چوہوں کی میوہ جات سے منتقل ہوتی ہیں۔

منبع: غیر پکا گوشت، غیر صاف پانی، اور غیر صاف خوراک سے ہوتا ہے۔

علامات

تپ، دنیاپیچے، معدہ درد، اور قہوتی پیشاب کی بنا پر ایمونیا یا بلیڈی پیشاب۔

حفاظت

صفائی میں مدد فراہم کریں۔

غیر پکا گوشت، صاف پانی، اور صاف خوراک کی خصوصی خیال رکھیں۔

ہاتھوں کو دھوئیں اور خوراک بنانے سے پہلے صفائی میں مدد فراہم کریں۔

نوٹ: اگر کسی کو انفیکشن کی علامات محسوس ہوں تو فوراً ڈاکٹر سے رابطہ کریں اور معالجہ کروائیں۔

اشکال کی مدد سے جراثیموں کی اقسام کی وضاحت کریں۔

جراثیم عام طور پر دنیا میں پائے جاتے ہیں اور ان میں مختلف اقسام کی میکروارگنزمز شامل ہوتی ہیں۔ یہ میکروارگنزمز اشکال کی مدد سے مختلف گروہوں میں تقسیم ہوتے ہیں۔

بیکٹیریا

کوکس یہ گول شکل کے ہوتے ہیں، جیسے کہ سٹرپٹوکوکس اور سٹافیلوکوکس۔

بیسیلس یہ لمبی اور چپٹی شکل کے ہوتے ہیں، جیسے کہ ایشیریشیا کولائی اور سلمنیلا۔

سپیروکیٹس یہ چکردار شکل کے ہوتے ہیں، جیسے کہ ہیلیکوبیکٹر پائلوری جو معدے کی السر میں پایا جاتا ہے۔

وائرس

تعددیہ اسپائرل یا چکردار شکل کے ہوتے ہیں، جیسے کہ توبیکو وائرس۔

چھائیں یہ 20 سمتی شکل کے ہوتے ہیں، جیسے کہ ہیپیٹائیٹس بی وائرس۔

مختلف یہ مختلف اشکال کے ہوتے ہیں، جیسے کہ تیلور وائرس۔

فنگس

ییست یہ گول شکل کے ہوتے ہیں اور اکثر ایک ہی خلیہ سے بنتے ہیں۔

مولد یہ خمیرہ شکل کے ہوتے ہیں اور مختلف سیاہیوں میں بنتے ہیں۔

مشروم یہ مشروموں کی طرح گلابی یا سفید رنگ کے ہوتے ہیں۔

پروٹوزوا

آمیبا یہ اوپر سے نیچے چلتے ہیں اور ایک خلیہ سے بنتے ہیں۔

پیراموشیا یہ چھوٹے سیلیومز یا جلدیں رکھتے ہیں اور جراثیموں کا حرکت کرتے ہیں۔

الجائنز

گرین یہ ہرا رنگ ہوتا ہے اور چلنے والے ہوتے ہیں۔

بنگل یہ بھورا یا سیاہی رنگ ہوتا ہے اور زیادہ تر خزانوں میں پایا جاتا ہے۔

ریڈ یہ لال یا گلابی رنگ ہوتا ہے اور چند میٹر لمبائی تک بڑا ہوتا ہے۔

یہ اشکال کی مدد سے ہم مختلف جراثیموں کی شناخت کر سکتے ہیں اور ان کی خصوصیات پر غور کر سکتے ہیں۔

Here is some other assignments solution….

Assignment No 4 Solution Course Code 203

Assignment No 1 Solution Course Code 203

Assignment No 2 Solution Course Code 204

Assignment No 3 Solution Course Code 204

Assignment No 4 Solution Course Code 204

Assignment No 1 Solution Course Code 204

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *