Assignment No 1 Solution Course Code 220

منہ کے پکنے کا مرض کیا ہے نیز اس کی وجوہات اور احتیاطی تدابیر کے بارے میں تفصیلاً تحریر کریں۔

منہ کے پکنےکا مرض

منہ کے پکنے، جو کہ طبی زبان میں یا کہلاتے ہیں، منہ کے اندر تخمیری تھیلوں یا منہ کی بطن کی جھلیوں کی ایک بیماری ہے۔ یہ بطور چھوٹے چھوٹے چھالے پیدا ہوتے ہیں جو عام طور پر زبان، منہ کی ستھری، یا لبوں پر آتے ہیں۔

وجوہات

آنتوں کی خرابی

آنتوں کی مختلف خرابیوں یا ایک عدم توازن کی بنا پر یہ مرض ہوتا ہے۔

غیرترتیبی خونرساں

غیرترتیبی خونرساں ہونا بھی منہ کے پکنے کی ایک وجہ ہو سکتا ہے۔

نقصانات یا زخم

زخم یا چھالے کو چھوڑنے والے نقصانات بھی اس کا باعث ہوتے ہیں۔

استرے، دھوپ، یا گرمی

زیادہ استرے، گرمی، یا دھوپ میں وقت گزارنے سے بھی یہ مرض پیدا ہو سکتا ہے۔

غذائی عدم توازن

غذائی عدم توازن یا کمی، خوراکیں جو چھالے پیدا کرنے میں مددگار ہوتی ہیں، ایک وجہ ہوتی ہے۔

احتیاطی تدابیر

مناسب خوراک

غذائی عدم توازن کو درست کرنے کے لئے موز، چکنی لطیفے، سبزیاں اور پھل شامل کریں۔

دھاتیں استعمال نہ کریں

کچھ لوگوں کو منہ کے پکنے کو بڑھانے والی چیزوں سے بچانے کے لئے دھاتیں استعمال نہ کرنے کی تجویز کی جاتی ہے۔

دنتوں کا صفائی:

منظم دنتوں کا صفائی، منہ کے پکنے کو روکنے میں مدد فراہم کرتی ہے۔

مناسب نیند

موزوں نیند لینا اور استراحت کرنا بھی منہ کے پکنے کو کم کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔

راحتیت سے خوراک

تیزابی خوراک، مصروفیت، یا سکڑا ہوا یا گرم چیزوں سے بچنا بھی اہم ہے۔

چھونے کا اجتناب

منہ کے پکنوں پر ہاتھ لگانے سے یا انہیں چھونے سے بچنا چاہئے۔

اگر منہ کے پکنے طویل عرصے تک برقرار رہتے ہیں یا بڑھتے ہیں، تو چاہئے کہ آپ اپنے ڈاکٹر سے مشورہ کریں تاکہ دقیق تشخیص اور علاج حاصل کیا جا سکے۔

مرگی اور ہسٹریا میں کیا فرق ہے نیز بتائیں کہ آپ ان امراض میں مریض کو کیا طبی امداد دیں گے؟


مرگی اور ہسٹریا

مرگی

تعریف

مرگی، جو کہ ٹائیفائیڈ ہے، ایک بیماری ہے جس میں حاد بخار، مسکراہٹ، سردیاں، اور عام طور پر مضبوط دھمکے شامل ہوتے ہیں۔

موتبت تشخیص

اس کا موتبت تشخیص خون یا ٹشو ٹسٹ کے ذریعے کیا جاتا ہے۔

علاج

مرگی کا علاج مختلف انٹی بائیوٹک دوائیں استعمال کرکے اور مریض کو چاہئے کہ اچھی طرح آرام کریں اور پینے کے لئے بہترین طریقے پر عمل کریں۔

ہسٹریا

تعریف

ہسٹریا، جو کہ ہسٹریکس یا فنتوم کو متضمن کرتا ہے، ایک عارضی اور غیر طبیعی حالت ہے جس میں شخص مختلف جسمانی معاشی، جوانمردی، یا مینٹل صفات میں متاثر ہو جاتا ہے۔

علامات

علامات شخص کے عقائد اور متوقعات کے مطابق تبدیل ہوتے ہیں اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ شخص کسی طبی یا جسمانی مسئلے سے متعلق ہے۔

تشخیص

ہسٹریا کا تشخیص معمولاً ماہر نفسیات یا ماہر روحانیات کے ذریعے کیا جاتا ہے۔

طبی امداد

مرگی

مرگی کا علاج انٹی بائیوٹک دوائیں شامل ہوتی ہیں جو بیماری کے جراثیموں کو کم کرنے میں مدد فراہم کرتی ہیں۔

مریض کو بہتری کے لئے مختلف آرام فراہم کی جاتی ہے۔

ہسٹریا

ہسٹریا کا علاج عام طور پر روحانی یا نفسیاتی علاجات پر مبنی ہوتا ہے۔

مریض کو مختلف تکنیکوں سے مدد فراہم کی جاتی ہے تاکہ انہیں اپنے اعتبارات اور خوابوں کا صفا ستھرا کرنے میں مدد ملے۔

نوٹ: یہاں ذکر کرنا ضروری ہے کہ ہر مریض کی صورتحال مختلف ہوتی ہے اور ہر افراد کو اپنے ڈاکٹر کی مشورہ لینا چاہئے تاکہ مناسب تشخیص اور علاج کیا جا سکے۔

آنکھ اور کان میں بیرونی شے پڑ جانے کی صورت میں مریض کیا شکایات کرتا ہے اور آپ ان شکایات کو کیسے دور
کریں گے؟

آنکھ اور کان میں بیرونی شے پڑ جانے کی صورت میں مریض مختلف شکایات کر سکتا ہے جو مندرجہ ذیل ہو سکتی ہیں:

آنکھ میں بیرونی شے

جلن یا خارش

آنکھ میں بیرونی شے کی وجہ سے جلن یا خارش محسوس ہو سکتی ہے۔

آنکھ کا سرد ہو جانا

بعض اوقات بیرونی شے کی وجہ سے آنکھ سرد ہو جاتی ہے اور نظر کمزور ہوتی ہے۔

آنکھ کا لال ہونا

اگر بیرونی شے میں کسی قسم کا زہر ہوتا ہے تو آنکھ لال ہو سکتی ہے اور لال ہوتی رہتی ہے۔

آنکھ کا پھولنا

بیرونی شے کی وجہ سے آنکھ پھول سکتی ہے۔

کان میں بیرونی شے

سننے میں تکلیف

بیرونی شے کی وجہ سے کان میں تکلیف ہوتی ہے جو باعث سننے میں کمی یا مشکلات کا باعث بنتی ہے۔

خارش یا درد

بیرونی شے کی وجہ سے کان میں خارش یا درد ہوتا ہے۔

شور

بعض اوقات بیرونی شے کی بنا پر کان میں شور ہوتا ہے۔

سننے کی کمی

بیرونی شے کی وجہ سے سننے میں کمی ہوتی ہے اور صدا گھٹ سکتا ہے۔

علاج

آنکھ میں بیرونی شے

آنکھ میں بیرونی شے کی صورت میں آپ کو فوراً اپنے ڈاکٹر سے رابطہ کرنا چاہئے۔

ڈاکٹر آپ کو آنکھوں کا معائنہ کریں گے اور مرتبہ بیرونی شے کے نوع اور شدت کا معلومات حاصل کریں گے تاکہ مناسب علاج دیا جا سکے۔

کان میں بیرونی شے

بیرونی شے کی صورت میں بھی فوراً ڈاکٹر کی مشورہ حاصل کریں۔

ڈاکٹر آپ کا کان میں معائنہ کریں گے اور بیرونی شے کی نوع اور شدت کو دیکھ کر مناسب علاج کا فیصلہ کریں گے۔

نوٹ: بیرونی شے کی صورت میں زودی سے ڈاکٹر کی مشورہ حاصل کرنا اہم ہے، چونکہ بعض اوقات ہمیشہ کے لئے نقصانات پیدا ہو سکتے ہیں اگر جلد ہیلتھ کی مدد نہیں لی گئی۔

بچے کے گلے میں پھندا لگنے کی صورت میں کیا طبی امداد دی جاسکتی ہے؟

بچے کے گلے میں پھندا لگنا ایک عام مسئلہ ہے جو بچوں میں زیادہ بار بار ہوتا ہے۔ گلے میں پھندا لگنے کی صورت میں مندرجہ ذیل طبی امداد دی جا سکتی ہے:

پانی کا استعمال

بچے کو پانی دینا اہم ہے تاکہ گلے میں پھندے کو نرم کر کے نکلنے میں مدد ملے۔

بھرے ہوئے ناک کو صاف کریں

بچے کے ناک کو چھیدی سے صاف کرنا اور نکلنے والے مواد کو ٹیشو یا ہینڈکرچیف میں ڈالنا فائدہ مند ہوتا ہے۔

ہڈی مکمل ہونے دیں

بچے کو جب تک گلے میں پھندا نکلنے کا پروسیس چل رہا ہو، اُسے ہڈی کو مکمل ہونے دینا چاہئے تاکہ وہ آسانی سے نکل سکے۔

بچے کو چھوٹا کمرہ میں رکھیں

بچے کو چھوٹے کمرے میں رکھیں اور تازہ ہوا فراہم کریں۔ یہ بچے کی سانسیں بھی بہتر رہتی ہیں اور وہ بہتر محسوس کرتا ہے۔

ٹھنڈا ہوائی بتریں

بچے کے رہنمائی کمرے کو ٹھنڈا رکھیں، جیسے کہ ہوائی بتریں یا ہوائی کنڈیشنر، تاکہ وہ آرام سے سانس لے سکے۔

طبی امداد

اگر بچے کا حالت بہتر نہیں ہورہا اور پھندا نکلنے میں مشکل ہو رہی ہے، تو فوراً ڈاکٹر سے مشورہ حاصل کریں۔

خود ہملہ

اگر بچہ بھڑکتا ہے یا گہری خفا ہو رہا ہے اور سانس لینے میں مشکل ہو رہی ہے تو فوراً ایمرجنسی حالت کی خدمات حاصل کریں۔

یہ حتمی ہے کہ بچے کو گلے میں پھندا لگنے کی صورت میں اہم امداد فراہم کی جائے اور اگر حالت بڑتر نہیں ہورہی ہے تو ڈاکٹر کی مدد حاصل کی جائے۔

مندرجہ ذیل پر نوٹ لکھیں۔

پیشاب رکھنے کی وجوہات

پیشاب رکنے کی وجوہات مختلف ہوسکتی ہیں، اور یہ مختلف عوامل پر مبنی ہوتی ہیں۔ یہاں کچھ عام وجوہات دی گئی ہیں:

کم پانی پینا

اگر شخص کم پانی پیتا ہو، تو اس کا پیشاب رک جانا عام ہوتا ہے۔ پانی کا کمی پیشاب کو گہرا رنگ دینے کی وجہ سے ہوتا ہے اور پیشاب کی مقدار بھی کم ہوتی ہے۔

شدید گرمی یا جوشیلی

شدید گرمیوں یا جوشیلی موسموں میں، جسم زیادہ پسینہ بناتا ہے اور اس سے بھی پیشاب کی مقدار میں کمی ہوتی ہے۔

مزیدتی ہاضمہ

زیادہ مزیدتی ہاضمہ کرنے سے بھی جسم میں پانی کی مقدار میں کمی ہوتی ہے اور پیشاب کی مقدار کم ہوتی ہے۔

زیادہ نمی

زیادہ نمی کی چیزوں کا زیادہ استعمال بھی پیشاب کی مقدار میں کمی کا باعث بن سکتا ہے۔

غیرترتیبی ہاتھ دہونا

غیرترتیبی طور پر ہاتھ دھونے یا صفائی کے عدم کی بنا پر بھی پیشاب رکنا ایک وجہ ہوتا ہے۔

میڈیکل مسائل

میڈیکل مسائل جیسے کہ گردابہ، پتھری، یا مثانہ کی مسائل بھی پیشاب رکنے کی وجوہات ہو سکتی ہیں۔

بار بار پیشاب آنا (پولی یوریا)

بار بار پیشاب آنے کا مسئلہ بھی ایک وجہ ہوتا ہے جس سے شخص کو زیادہ پیشاب آنے کا احساس ہوتا ہے لیکن واقعی میں پیشاب کم آتا ہے۔

مثلثیہ کی مسائل

مثلثیہ یا یوریترا کی مسائل بھی پیشاب رکنے کی وجوہات ہوتی ہیں۔

اگر شخص کو پیشاب رکنے کا مسئلہ ہوتا ہے جو بے ترتیب ہوتا ہے یا یہ مسئلہ برقرار رہتا ہے، تو ڈاکٹر کی مشورہ حاصل کرنا چاہئے۔ ڈاکٹر میں سے زیادہ تجویز کرے گا کہ پیشاب رکنے کی وجوہات کیا ہیں اور اس کا صحیح علاج کیا ہوگا۔

حمل کے دوران خطرناک علامات اور ان کا علاج

حمل (پریگنانسی) کے دوران خطرناک علامات ہیں جو ممکن ہے کہ صحتیابی یا جنین کے لحاظ سے متعلق ہوں۔ اگر خواتین حمل کے دوران کسی بھی وقت خطرناک علامات محسوس کریں، تو فوراً اپنے ڈاکٹر یا حاملہ کی دیکھ بھال کرنے والے ہسپتال جانے کا خیال کریں۔

خطرناک علامات

قوی دکھائی دینا

اگر حاملہ خاتون کو نیچے پیٹ یا کمر میں شدید درد ہو رہا ہے، تو یہ ایک خطرناک علامت ہو سکتی ہے۔

رات کو پیشاب میں خون

اگر حاملہ خاتون کو پیشاب میں خون آ رہا ہو، تو یہ ایک بڑی مسئلہ ہو سکتا ہے جو گردابہ یا دوسری مثلثیہ مسائل کا نمایاں علامت ہو سکتا ہے۔

زیادہ چکنائی یا چکنائی کی بہت زیادہ بڑھت

اگر چہرے، ہاتھ، چھاتی، یا پیروں میں شدید چکنائی یا چکنائی کی بہت زیادہ بڑھت ہے، تو یہ پری-اکلمپسیا کا علامت ہو سکتا ہے جو خطرناک ہوتا ہے۔

خون کی گراوٹ

خون کی گراوٹ کی بنا پر کمر میں یا پیٹ میں درد ہونا یا پیشاب میں خون آنا بھی خطرناک علامت ہوتی ہے۔

پیشاب میں چیلیں

پیشاب میں زیادہ مقدار میں پروٹین ہونا یا پیشاب میں چیلیں آنا بھی ایک پری-اکلمپسیا کا علامت ہوتا ہے۔

بچے کی ہلچل

اگر حاملہ خاتون محسوس کرتی ہیں کہ بچے کی حرکت میں کمی ہو گئی ہے، تو یہ بھی ایک خطرناک علامت ہوتی ہے۔

علاج

ڈاکٹر کی ہدایت پر عمل کریں اور ہسپتال جلدی سے پہنچیں۔

ڈاکٹر حاملہ خاتون کے صحتیابی اور جنین کی صحت کو دیکھ بھال کے لئے ضروری ٹیسٹس اور مانیٹرنگ کا فیصلہ کریں گے۔

اگر حالت خطرناک ہوتی ہے، تو ڈاکٹر کو اپنے اور بچے کے محافلت پر تشویش ہو سکتی ہے اور وہ فوراً مناسب علاج کا فیصلہ کریں گے۔

ناک میں کوئی شے پڑنے کی علامات

اگر ناک میں کوئی شے پڑ جائے تو اس کا احتمال ہوتا ہے کہ شخص کو مختلف علامات محسوس ہوں۔ یہاں کچھ عام علامات ہیں جو ناک میں کوئی شے پڑنے کی صورت میں ہوسکتی ہیں:

درد یا چھید

ناک میں شے پڑنے کی بنا پر درد ہوتا ہے، خصوصاً اگر شے ناک کے نرم حصے کو چھوڑ کر اندر گیا ہو۔

خون آنا

اگر شے ناک میں چھیدہ ہوتا ہے، تو ناک سے خون آ سکتا ہے۔

سانس میں مشکل

ناک میں شے پڑنے کی بنا پر سانس لینے میں مشکل ہوتی ہے۔

ناک کا بند ہو جانا

شے کی بنا پر ناک بند ہو سکتی ہے جو سانس لینے میں مشکلات پیدا کرتا ہے۔

سانس کی بو یا بدبو

ناک میں شے پڑ جانے کی بنا پر سانس کی بو یا بدبو محسوس ہوتی ہے۔

کھانسی یا چھینکیں

شے ناک میں پڑنے کی بنا پر کھانسی یا چھینکیں آ سکتی ہیں۔

علاج

اگر کسی کو لگتا ہے کہ ناک میں کچھ پڑا ہوا ہے، تو فوراً اچھے صحتیاب کار یا ہسپتال کا رابطہ کریں۔

خود تشخیص اور خود علاج کرنے کی کوشش نہ کریں، چونکہ یہ ممکن ہے کہ ناک میں شے ہٹانے کی کوشش سے زیادہ نقصان پیدا ہو۔

ڈاکٹر ناک کے اندر چھپی مددگاری کو دیکھ کر اور مختلف ٹیسٹس اور اشعہ کاریوں سے معلومات حاصل کر کے مناسب علاج کا فیصلہ کریں گے۔

بعض اوقات ناک میں پڑا شے خود بخود باہر نکل جاتا ہے یا ڈاکٹر کی مدد سے نکلایا جاتا ہے۔

آنکھ میں کٹ لگنا

اگر ناک میں کوئی شے پڑ جائے تو اس کا احتمال ہوتا ہے کہ شخص کو مختلف علامات محسوس ہوں۔ یہاں کچھ عام علامات ہیں جو ناک میں کوئی شے پڑنے کی صورت میں ہوسکتی ہیں:

درد یا چھید

ناک میں شے پڑنے کی بنا پر درد ہوتا ہے، خصوصاً اگر شے ناک کے نرم حصے کو چھوڑ کر اندر گیا ہو۔

خون آنا

اگر شے ناک میں چھیدہ ہوتا ہے، تو ناک سے خون آ سکتا ہے۔

سانس میں مشکل

ناک میں شے پڑنے کی بنا پر سانس لینے میں مشکل ہوتی ہے۔

ناک کا بند ہو جانا

شے کی بنا پر ناک بند ہو سکتی ہے جو سانس لینے میں مشکلات پیدا کرتا ہے۔

سانس کی بو یا بدبو

ناک میں شے پڑ جانے کی بنا پر سانس کی بو یا بدبو محسوس ہوتی ہے۔

کھانسی یا چھینکیں

شے ناک میں پڑنے کی بنا پر کھانسی یا چھینکیں آ سکتی ہیں۔

علاج

اگر کسی کو لگتا ہے کہ ناک میں کچھ پڑا ہوا ہے، تو فوراً اچھے صحتیاب کار یا ہسپتال کا رابطہ کریں۔

خود تشخیص اور خود علاج کرنے کی کوشش نہ کریں، چونکہ یہ ممکن ہے کہ ناک میں شے ہٹانے کی کوشش سے زیادہ نقصان پیدا ہو۔

ڈاکٹر ناک کے اندر چھپی مددگاری کو دیکھ کر اور مختلف ٹیسٹس اور اشعہ کاریوں سے معلومات حاصل کر کے مناسب علاج کا فیصلہ کریں گے۔

بعض اوقات ناک میں پڑا شے خود بخود باہر نکل جاتا ہے یا ڈاکٹر کی مدد سے نکلایا جاتا ہے۔

کچھ علامات

درد یا چکر کا احساس

آنکھ سے آنسو یا چپکاپی

رات کو روشنائی میں مشکل ہونا

آنکھ سے خون یا رطوبت کا آنا

آنکھ کا لال ہونا یا سوجن

اگر کٹ لگے تو

ہاتھ دھوئیں

کسی نے ہاتھوں کو صاف نہ کیا ہو تو ہاتھ دھویں اور صاف ہاتھوں سے آنکھ کو چھونے سے پہلے ہاتھ دھویں۔

آنکھ میں خالی پانی

آنکھ میں کٹ لگنے کی صورت میں خالی پانی سے 15-20 منٹ تک آنکھ کو دھونا چاہئے۔

آنکھ کو محفوظ رکھیں

کٹی ہوئی آنکھ کو چپ رکھیں اور اس پر فرش پر یا مناسب چیزوں سے گرمائیں رکھیں۔

آنکھ کو چھوڑیں

آنکھ کو چھوڑیں اور کوشش کریں کہ اس پر ہاتھ نہ لگائیں یا کچھ رکھیں۔

ڈاکٹر کی مدد

اگر حالت خطرناک ہو یا آنکھ میں ممکنہ زخم ہوں تو فوراً ڈاکٹر سے رابطہ کریں۔

ڈاکٹر کی ہدایت پر آپ کو آنکھیں چیک کرنے، جراحی کرنے یا دوائیں دینے کا فیصلہ ہوسکتا ہے۔

ہمیشہ اہم ہے کہ آنکھ میں کٹ لگنے پر فوراً ڈاکٹر کی مدد حاصل کی جائے، خصوصاً اگر آپ کو کسی مضمونہ حادثے یا آپس میں ہنرمندی کے دوران چوٹ آئی ہو۔

Here is some other assignments solution….

Assignment No 1 Solution Course Code 313

Assignment No 1 Solution Course Code 219

Assignment No 2 Solution Course Code 219

Assignment No 1 Solution Course Code 217

Assignment No 2 Solution Course Code 217

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *