AIOU: Assignment No 2 Solution Course Code 201

سوال نمبر 1۔ نماز کے ارکان اور پڑھنے کا مکمل طریقہ تحریر کریں۔

نماز کے ارکان اور پڑھنے کا مکمل طریقہ

نماز، اسلامی دین کے اہم عبادی رکنوں میں سے ایک ہے اور مسلمانوں کو روزانہ پانچ مرتبہ یا بہترین صورت میں پانچ مرتبہ ادا کرنی چاہئے۔ نماز کو ہر رکن اور ہر چیز کے ساتھ ادا کرنا ہوتا ہے۔ یہاں نماز کے ارکان اور پڑھنے کا مکمل طریقہ دیا گیا ہے

نماز کے ارکان

نیت (قصد): دل سے نماز قائم کرنے کا عہد کرنا اور نیکی کے لئے اللہ کی طرف سے نماز قائم کرنے کا ارادہ رکھنا۔

قیام: ایک قائمہ حالت میں کھڑے ہوکر نماز قائم کرنا۔

قرآن تلاوت: آلِہ اللہ تعالی کی کتاب، قرآن مجید سے کچھ آیات یا سورہ پڑھنا۔

رکوع: قیام سے رکوع کی حالت میں جانا اور دستیں گھٹا لینا۔

سجدہ: رکوع سے سجدہ کی حالت میں جانا اور جبھہ، ناک، ہاتھ، گھٹنے اور پیروں کو زمین پر لگانا۔

تشہد: سجدہ سے بعد بیٹھ کر تشہد کے ارکان پڑھنا اور دوسرے تشہد میں انگوٹھے ہلکے سے اشارہ کرنا۔

دروود ابراہیمیہ: تشہد کے بعد درود ابراہیمیہ پڑھنا۔

سلام: نماز کو ختم کرتے ہوئے دونوں ہاتھ سے چہرے کی طرف مسلسل مرتبہ سلام کرنا۔

نماز کا مکمل طریقہ

فجر، ظہر، عصر، مغرب اور عشاء

قیامت میں ایستراحت کریں اور نیت کریں

“اللہ اکبر” کہ کر قیام کریں اور سورہ الفاتحہ اور کسی دوسرے سورہ کو پڑھیں

رکوع کریں اور سورہ اور دعا پڑھیں۔

سجدہ کریں اور دعا پڑھیں۔

تشہد کے ارکان اور درود ابراہیمیہ پڑھیں۔

آخر میں سلام کے ساتھ نماز ختم کریں۔

وتر نماز

قیامت میں ایستراحت کریں اور نیت کریں۔

“اللہ اکبر” کہ کر قیام کریں اور سورہ الفاتحہ اور کسی دوسرے سورہ کو پڑھیں۔

رکوع کریں اور سورہ اور دعا پڑھیں۔

سجدہ کریں اور دعا پڑھیں۔

تشہد کے ارکان اور درود ابراہیمیہ پڑھیں۔

سلام کے بعد ایک نہیں سجدہ کریں اور دعا پڑھیں۔

آخر میں سلام کے ساتھ نماز ختم کریں۔

یہاں دی گئی ہدایتیں بنیادی ہیں اور مکمل نماز کا طریقہ، محل مساجد میں ملی گئی تعلیمات یا محنت کی جا ر

سوال نمبر 2 تیم کب کرنا چاہئے اور کن چیزوں سے جائز ہے۔

تیم (استعمال) کا وقت

صبح کا وقت (Subh): تیم صبح کے وقت، یعنی سورج طلوع ہونے کے بعد، کا کرنا مستحب ہے۔

ظہر کا وقت (Dhuhr): اس وقت بھی تیم کرنا مستحب ہے، لیکن اگر کسی کو یہاں ہنگر کے باعث یا دیگر مستعجل کاموں کے باعث وقت کم ہو تو میں مستحب ہوتا ہے۔

عصر کا وقت (Asr): عصر کے وقت میں بھی تیم کرنا جائز ہے، لیکن اس وقت کو مختصر رکھنا چاہئے کیونکہ رات کا قریبی ہونے کا وقت ہوتا ہے۔

مغرب کا وقت (Maghrib): مغرب کے بعد کچھ دیر تیم کرنا جائز ہے، لیکن ذیادہ دیر تک مغرب کے بعد تیم نہیں کرنا چاہئے۔

عشاء کا وقت (Isha): عشاء کے وقت میں بھی تیم کرنا مستحب ہے، لیکن اگر آدمی بھوکا نہ ہوتا ہو تو ذیادہ دیر تک تیم کرنا مختصر رکھنا چاہئے۔

کن چیزوں سے جائز ہے

پانی : پانی پینا یا تیم کرنے میں استعمال کرنا جائز ہے۔

تمباکو : تمباکو کا استعمال جائز نہیں ہے، لہٰذا تیم میں تمباکو کا استعمال کرنا چاہئے۔

خوراک : خوراک یا غذا کا استعمال جائز ہے اور تیم کرتے وقت خوراک کا استعمال کرنا مستحب ہے۔

نسوانی وسائل : نسوانی وسائل کا استعمال تیم کرتی ہوئی جائز ہے اور اگر کسی عورت کو چاہئے تو یہاں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔

پرفیوم : خوشبو (پرفیوم) کا استعمال بھی جائز ہے، لیکن ایسے معطرات جو مسلمان کے لئے ہرم ہیں، ان کا استعمال اجتناب کیا جائے۔

یہاں دی گئی ہدایات عام ہیں اور مختلف مذاہب اور فقہی مسائل کے متعلقہ متفاوت آراء ہوتی ہیں

سوال نمبر 3 زکوۃ ادا کرنے کے اصول اور فائدے تحریر کریں۔

زکوۃ کے اصول

نصاب کی پیشگوئی : زکوۃ کے ادا کے لئے نصاب کی مقدار کا تعین بہت اہم ہے۔ اگر شخص کے ملک میں مختصر میں نصاب کی حد کو پہنچ جائے، تو زکوۃ ادا کرنا واجب ہوتا ہے.

مالی اشیاء پر: زکوۃ صرف خاص قسم کے مالی اشیاء پر واجب ہوتی ہے، جو ہفتہ بھر مالک کے ملک میں رہتی ہیں۔ یہ شہرت میں زنانہ زیور، چاندی، سونا، اور دیگر مختصر ہوتی ہیں۔

ادنیٰ النصاب : نصاب کی پیشگوئی میں معمولاً ذہین مختصر مالک کی دینے والے ایک سال کے ذکر حکم ہوتا ہے۔

پھل، زرع، اور مال سے: زکوۃ کے طور پر دینے کی نگاہ سے پھل، زرع، اور مال کا اشتمال کیا جاتا ہے۔

زکوۃ کے فائدے

مال کی پاکیزگی : زکوۃ ادا کرنے سے شخص کا مال پاک ہوتا ہے اور اس میں برکت آتی ہے۔

محتاجوں کی مدد : زکوۃ ادا کرنے سے مالدار لوگ محتاجوں اور غریبوں کی مدد کرتے ہیں اور معاشرتی عدل و انصاف کو مضبوطی دیتے ہیں۔

سوشیل ویلفیئر : زکوۃ کا نظام سماجی بہتری اور انسانیت کے لئے خدمت فراہم کرتا ہے، اور معاشرت میں عدل و انصاف کے اصولوں کو بڑھاتا ہے۔

شخصی ترقی : زکوۃ ادا کرنے سے شخص خود بھی اخلاقی طور پر بہتر بنتا ہے اور مال کا صحیح استعمال سیکھتا ہے۔

خود کو امتحان دینا : زکوۃ ادا کرنا ایک شخصی امتحان ہوتا ہے جس سے شخص اپنے مالی حساب کتاب کو صحیح طریقے سے موازنہ کرتا ہے۔

مال میں برکت : زکوۃ ادا کرنے سے مال میں برکت آتی ہے اور افراح و خوشیاں زندگی میں آتی ہیں۔

زکوۃ کا حکم اسلامی تعلیمات میں اہم ہے اور یہ معاشرتی انصاف کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

سوال نمبر 4۔ وقوف عرفات اور صفا و مروہ کے درمیان سعی پر نوٹ تحریر کریں۔

وقوف عرفات

تعریف: وقوف عرفات، اسلامی ہج کے دنوں میں یوم عرفہ کے دن، عرفات پہاڑی میدان میں ہونے والا عظیم واقعہ ہے۔

تاریخی پس منظر: یہاں پر حضرت ادم (علیہ السلام) اور حضرت حواء (علیہ السلام) کو جداگانہ کیا گیا تھا اور یہاں پر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اختتامی خطبہ فراہم کیا تھا۔

عبادات کا وقت: وقوف عرفات کا وقت یوم عرفہ کے 9 ذوالحجہ کو شروع ہوتا ہے اور صبح کے طلوع سے لے کر غروب آفتاب تک جاری رہتا ہے۔

عبادات کی اہمیت: وقوف عرفات، یوم عرفہ کا سب سے اہم رکن ہے اور یہاں موقف عرفات میں اللہ کے حضور بندگی کا اظہار، توبہ، دعا، اور استغفار کا وقت ہوتا ہے۔

صفا و مروہ کے درمیان سعی

تعریف: صفا و مروہ، حضرت حاضرہ (علیہ السلام) کی قدمیں کی چھاپ پر ہونے والا عظیم واقعہ ہے۔

تاریخی پس منظر: حضرت حاضرہ (علیہ السلام) نے حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کو عرب کے صحرائی علیحدہ جگہ چھوڑ دیا تھا اور وہاں کے کھلے صحرائی علیحدہ جگہ میں صفا و مروہ بنا یا گیا۔

سعی کا امتداد: حاضرہ (علیہ السلام) نے صفا سے مروہ جانب ہاتھ چلاتے ہوئے ہر بار آدھا مسافر سفر کرنے کا عمل دکھایا، جو حضرت حاضرہ (علیہ السلام) کی شفقت اور توسل کے ذریعے ہوتا۔

تعلق بینی حکومت: اس سعی کا عمل امت کے لئے ایک اچھا نمونہ فراہم کرتا ہے کہ حکومت کے ذریعے ہونے والی ہر اہم کارروائی میں عوام کو شفافیت، امانت، اور مساوات کے اصولوں کے تحت امور کا انتخاب ہوتا ہے۔

عبادات کا وقت: سعی کا عمل حجاج کے لئے ضروری ہے اور یہ حاضرہ (علیہ السلام) کے عمل کی تقدیر کو یاد دلاتا ہے کہ اللہ کی راہ میں ہر مشکلات کو حل کرنا اہم ہے۔

صفا و مروہ کے درمیان سعی اور وقوف عرفات، حاضرہ (علیہ السلام) کی توجہ، توسل، اور شفقت کا نمایاں نمونہ ہیں جو مسلمانوں کو امت کے ترقی اور بہتر مستقبل کی طرف رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔

سوال نمبر 5۔ حجتہ الوداع اور وصال نبوی ﷺ پر علیحدہ علیحدہ نوٹ تحریر کریں۔

حجتہ الوداع

تعریف: حجتہ الوداع، حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا آخری حاضری حج کا موقع ہے جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے دنوں میں عظیم ہے۔

تاریخی پس منظر: حجتہ الوداع 10 ذوالحجہ، 10 ھجری کو ہوا، جب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے آخری حج کے دنوں میں عرفات میدان میں حاضرین کے سامنے خطبہ دیا۔

خطبہ الوداع: حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے خطبہ الوداع میں امت کو راہنمائی دی، اہم اصول و مبادی بیان کئے اور اخلاقی اور معاشرتی امور پر توجہ دی۔

علم اور اخلاقی تربیت: خطبہ الوداع میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے امت کو علمی تربیت دینے، اخلاقی اصولوں کی ترویج کرنے، انصاف اور امانت کے اصولوں پر عمل کرنے کی ہدایت دی۔

اہم پیغامات: حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے امت کو انسانی حقوق کی پیشگوئی کی، غریبوں اور یتیموں کے حقوق کا خصوصی خیال رکھا، اور مختلف طبقات اور نسلوں کے درمیان برابری کی ترویج کی۔

وصال نبوی ﷺ

تعریف: وصال نبوی، حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی کا آخری حصہ ہے جس میں حضرت کا وفات اور رسول اللہ ﷺ کا وصولِ اللہ ہے۔

تاریخی پس منظر: وصال نبوی 12 ربیع الاول، 11 ھجری کو ہوا، جب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دنیا کو اللہ کے حضور چھوڑ دیا۔

وقتِ وصول: حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وصول صبح کے وقت ہوا، جب حضرت جبرائیل علیہ السلام نے آیت الکرسی کی تلاوت کی اور اللہ کے حضور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہمیشہ کے لئے حضور مبین میں مقرر کر دیا۔

آخری کلمات: حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آخری کلمات میں اللہ کی حمد و ثنا، توحید، ایمان، اخلاقی اصولوں کی ترویج، اور امت کی راہنمائی پر توجہ ہوئی۔

حضور کی وفات: حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات مدینہ منورہ میں اپنے ہریم شریف کے گھر میں ہوئی، جہاں ان کے آخری لحظوں میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے چھاتی پر ہاتھ رکھتے ہوئے اللہ کے حضور وفات پذیر ہوئے۔

وصال نبوی ﷺ، حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی کا آخری حصہ ہے جو امت کے لئے ایک سبق آموز موقع ہے، جس میں رسول اللہ ﷺ نے امت کو ایمانی اور اخلاقی اصولوں پر چلنے کی ہدایت دی اور اپنے مثل سے اچھے انسان بننے کا راستہ دکھایا۔

Here is some other assignments solution….

Assignment No 4 Solution Course Code 204

Assignment No 1 Solution Course Code 204

Assignment No 1 Solution Course Code 206

Assignment No 2 Solution Course Code 206

Assignment No 4 Solution Course Code 202

Assignment No 4 Solution Course Code 200

Assignment No 3 Solution Course Code 200

Assignment No 2 Solution Course Code 201

Solved Assignment No 3 Course Code 201

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *