Assignment No 2 Solution Course Code 217

خامرے سے کیا مراد ہے؟

خامرے” ایک اردو لفظ ہے جس کا مطلب ہوتا ہے “متعلق بہارت” یا “ہندوستانی”۔ یہ لفظ عام طور پر ہندی یا اردو کے زبانی یا سنسکرت کے متعلق استعمال ہوتا ہے۔

اس کا استعمال عام طور پر مذہبی یا ثقافتی متعلقات کے حوالے سے ہوتا ہے اور کسی خاص دین یا فرقے کو ظاہر کرنے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔

براہ کرم، مجھ سے مزید تفصیلات میں بتائیں کہ آپ کس موضوع پر بات چیت کر رہے ہیں تاکہ میں آپ کو بہتر سے مدد کر سکوں۔

منہ میں عمل ہضم کیسے ہوتا ہے؟

منہ میں عمل ہضم کا آغاز چباکر ہوتا ہے جب غذا کا ٹکڑا چبایا جاتا ہے۔ یہ عمل چبانے کے دوران خوراک کو چھوٹے ٹکڑوں میں تقسیم کرتا ہے تاکہ اسے جوڑا جا سکے اور آئمہ (انزائم) کو غذا کو حل کرنے کے لئے مدد مل سکے۔

یہاں عمل ہضم کے مختلف مراحل ہیں:

چبانا: منہ میں غذا چبایا جاتا ہے تاکہ یہ چھوٹے ٹکڑوں میں تقسیم ہو جائے۔

پتھا: چبانے گئے غذا کے چھوٹے ٹکڑے ہضمی انزائمات (جیسے کہ پیپٹائیں) کے زیر اہتمام منہ سے گزرتے ہیں۔

ہضم: ہضمی انزائمات غذا کے ٹکڑوں کو مختلف آئمہات میں تبدیل کرتے ہیں۔ مصلحت، کربوہائیڈریٹس، اور پروٹینز کو مختلف مراحل میں ہضم کیا جاتا ہے۔

جذب: ہضم ہونے والے مصلحت، کربوہائیڈریٹس، اور پروٹینز، جو آئمہات کے ذریعے حاصل ہوتے ہیں، جڑواں اندرونی جدرات میں جذب ہوتے ہیں۔

باقی غیر ضروری مادے: جو مادے ہضم ہونے کے بعد بچتی ہیں، وہ منہ سے باہر نکلتی ہیں جسے فضازی مواد (فیکل میٹر) کہا جاتا ہے۔

منہ میں ہضم کا عمل گاڑھا اور تنظیم شدہ ہوتا ہے تاکہ مختلف قسم کے غذائی عناصر کو جسم کی ضروریات کے مطابق حاصل کیا جا سکے۔

بڑی آنت کی کارکردگی کے بارے میں مختصر لکھیں۔

بڑی آنت (large intestine) جسے غضروف آنت یا بڑا آنت بھی کہا جاتا ہے، ہضمی نظام کا حصہ ہے اور غذائی عناصر کی آخری مراحل میں شامل ہوتا ہے۔ یہ کارگردگی کا اہم حصہ ہے اور مختلف فرآیندوں کو پورا کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔

پانی کی جذبت: بڑی آنت میں باقی رہ جانے والے غذائی مادوں کو ہضم ہونے والے پانی کے ساتھ ملا دیتا ہے۔ یہاں پانی اور موادے باہر نکالے جاتے ہیں جو فضازی مواد (فیکل میٹر) کی شکل میں باہر آتے ہیں۔

باکٹیریا کارکردگی: بڑی آنت میں کثیر تعداد میں باکٹیریا ہوتے ہیں جو غذائی موادے کو ہضم کرتے ہیں اور وٹامن B اور K جیسے اہم عناصر بناتے ہیں۔

فیکل میٹر کی تخلیق: غذائی موادے کا ہضم ہونے کے بعد، بڑی آنت میں باقی رہ جانے والے مادوں کو فضازی مواد (فیکل میٹر) کی شکل میں جمع کیا جاتا ہے۔

متعادل آبادی کارگردگی: بڑی آنت میں باکٹیریا کارگردگی کی خوبصورتی کے لئے ضروری ہیں اور یہ ایک متعادل آبادی کی بنیاد رکھتے ہیں۔

پراستالٹک حرکات: بڑی آنت میں پراستالٹک حرکات ہوتی ہیں جو فضازی مواد کو آخری حصے تک منتقل کرتی ہیں تاکہ یہ جسم سے باہر نکل سکے۔

بڑی آنت کی کارکردگی کا مکمل ہونا غذائی عناصر کو جسم کے لئے حاصل کرنے میں اہم ہوتا ہے اور فضازی مواد کو جسم سے باہر نکالنے میں بھی مدد فراہم کرتا ہے۔

جسم میں جگر کی اہمیت پر نوٹ لکھیں۔

جگر کی اہمیت:

ہضمی نظام میں مدد: جگر ہضمی نظام میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ یہ مختلف غذائی عناصر کو ہضم کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے اور انہیں مختلط کر کے خون میں شامل کرتا ہے۔

صحتمند خون کی تخلیق: جگر خون کی صحت کے لئے اہم ہے۔ یہ خون میں ہضم ہونے والے موادوں کو فراہم کرتا ہے اور مختلف وٹامنز اور معدنیات کو خون میں شامل کر کے صحتمند خون کی تخلیق میں مدد فراہم کرتا ہے۔

سموم اور زہریلے موادوں کا ہضم: جگر میں مختلف عملیاتی چیمیکلز ہوتے ہیں جو سموم اور زہریلے موادوں کو ہضم کر کے غیر ضروری مواد بناتے ہیں، جو بعد میں فضازی مواد کی شکل میں جسم سے باہر نکلتا ہے۔

گلبلا کنٹرول: جگر گلبلا (گلبلا بلیڈر) کو کنٹرول کرتا ہے اور اس میں مختلف موادوں کو جمع کرتا ہے جو بعد میں صفائی کی عملیات میں مدد فراہم کرتا ہے۔

گلوکوز کی تنظیم: جگر انسولین اور گلوکاگون جیسے ہارمونز کا انتاج کرتا ہے جو گلوکوز (شوگر) کی مقدار کو تنظیم میں مدد فراہم کرتا ہے۔

فضازی مواد کی تخلیق: جگر غذائی عناصر کو فضازی مواد کی شکل میں جمع کرتا ہے جو بعد میں اخراج کی عملیات میں مدد فراہم کرتا ہے۔

جگر جسم کی صحت و تندرستی کے لئے اہم ہے اور مختلف عملیات کرتا ہے جو جسم کو مختلف طریقوں سے مدد فراہم کرتا ہے۔

ہماری غذائی ضروریات کو عمر کس طرح متاثر کرتی ہے؟

غذائی ضروریات کو عمر میں تاثر کرنے والے مختلف عوامل ہیں جو انسان کے جسمی اور ذہانتی فردیات پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ یہاں کچھ اہم عوامل ہیں:

پیشاپیش گروہیں: عمر کے ساتھ ساتھ، جسم کی ضروریات میں تبدیلیاں آتی ہیں۔ بچوں، جوانوں، اور بڑھتے ہوئے عمر کے لحاظ سے مختلف گروہوں کو مختلف غذائی عناصر کی زیادہ یا کمی کی ضرورت ہوتی ہے۔

فعالیت سطح: فعالیت سطح بھی غذائی ضروریات پر اثرانداز ہوتا ہے۔ زیادہ فعال افراد کو زیادہ انرجی اور غذائی عناصر کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ وہ اپنی روزانہ کی زیادہ حرکتوں کو مدد فراہم کر سکیں۔

جنس: مردوں اور عورتوں کے جسم کی ساخت میں مختلفیت ہوتی ہے اور ان کی غذائی ضروریات بھی مختلف ہوتی ہیں۔

صحتی حالت: مختلف صحتی حالات جیسے کہ حاملگی، بیماری، یا زخم بھی غذائی ضروریات پر اثر ڈال سکتے ہیں۔

وراثتی عوامل: جینز میں موجود وراثتی عوامل بھی غذائی ضروریات پر اثر ڈالتے ہیں اور یہ مختلف افراد کو مختلف اہمیتوں کے لحاظ سے غذائی عناصر کی ضرورت ہوتی ہے۔

جسمانی تبدیلیاں: جسمانی تبدیلیوں جیسے کہ بڑھتی ہوئی عمر، جسم کی مصرفیت میں تبدیلیاں پیدا کرتی ہیں جو غذائی عناصر کی زیادہ یا کمی کی ضرورت کو متاثر کرتی ہیں۔

عمری مراحل میں غذائی ضروریات کا خیال رکھنا اہم ہے تاکہ اچھی صحت اور صحتمند جیوگے کو یقینی بنایا جا سکے۔

حصہ (ج)

خوراک کے انتخاب پر ثقافتی و معاشرتی ممنوعات اور آمدنی کیسے اثر انداز ہوتے ہیں۔

ثقافتی و معاشرتی ممنوعات اور آمدنی خوراک کے انتخاب پر مختلف طریقوں سے اثر انداز ہوتے ہیں۔ یہ ممنوعات اور آمدنی کے مسائل غذائی عادات اور منویات کو متاثر کر سکتے ہیں۔

مقامی غذائی روایات: مختلف ثقافتوں میں مختلف غذائی روایات اور پس منظر ہوتے ہیں۔ ممنوعات اور آمدنی اس سے متعلق تصورات کو متاثر کر سکتے ہیں اور لوگوں کو خوراک کے انتخابات میں مختلف فیصلے کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔

مذہبی ممنوعات: مذہبی عقائد اور ممنوعات بھی خوراک کے انتخابات پر اثر ڈال سکتے ہیں۔ کچھ لوگ مذہبی ریاستوں یا مقامی علماء کی ہدایتوں پر عمل کرتے ہیں جو خوراک کے انتخابات کو مختلف معیارات پر مبنی کرتے ہیں۔

آمدنی اور دستیابی: لوگوں کی آمدنی بھی خوراک کے انتخابات پر براہ کرم اثر انداز ہوتی ہے۔ زیادہ آمدنی والے افراد عام طور پر مزیدرس اور متنوع خوراکیں خریدنے اور تنوع پسند غذائیں استعمال کرنے میں مختلف ہوتے ہیں۔

معاشرتی پیشہ ورانہ اور دعوتی روایات: معاشرتی پیشہ ورانہ اور دعوتی روایات بھی خوراک کے انتخابات پر اثر ڈالتے ہیں۔ خصوصاً معاشرتی مواقعوں میں، لوگ اکثر خوراک کے انتخابات کو دعوتی مواقع کے مطابق منظم کرتے ہیں۔

تعلیمی حالت: تعلیمی حالت بھی خوراک کے انتخابات پر اثر ڈالتی ہے۔ زیادہ تعلیم یافتہ لوگ عموماً صحتمند غذائیں پسند کرتے ہیں اور ان کے خوراک کے انتخابات معیاری ہوتے ہیں۔

اعلیٰ شہرت و اعلیٰ تعلیم: اعلیٰ شہرت یا اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والے افراد عام طور پر صحتمند غذائیں پسند کرتے ہیں اور ان کے خوراک کے انتخابات معیاری ہوتے ہیں۔

یہ تمام عوامل ملا کر ایک شخص کی غذائی عادات و انتخابات کو متاثر کرتے ہیں اور لوگ مختلف ممنوعات، روایات، اور آمدنی کے معیارات کے مطابق خوراکیں منتخب کرتے ہیں۔

چھوٹی آنت میں عمل ہضم کیسے ہوتا ہے؟

چھوٹی آنت (Small intestine) جسم میں ہضم اور غذائی عناصر کو جسم کی ضروریات کے لئے جذب کرنے کا اہم کردار ادا کرتی ہے۔ چھوٹی آنت میں عمل ہضم مندرجہ ذیل مراحل پر مبنی ہوتا ہے:

پاپین اور انتراکسنی انزائمات: غذا چھوٹی آنت میں پہنچتے ہی، پانکریاس اور انٹیو انٹراکسنی انزائمات کام کرنا شروع کرتے ہیں۔ پانکریاس سے آئمہات (انزائمات) جیسے لپیس، آئملیس، اور پٹیپٹائیں خارج ہوتی ہیں جو غذائی مواد کو ہضم کرنے میں مدد فراہم کرتی ہیں۔

غذائی مواد کا ہضم: پانکریاس کے آئمہات کا کام غذائی مواد کو چھوٹے ٹکڑوں میں تقسیم کرنا ہوتا ہے تاکہ انہیں جذب کرنا آسان ہو۔ اس کے بعد، انٹراکسنی انزائمات (آئمہات) بھی غذائی مواد کو ہضم کرتے ہیں اور انہیں مختلف اجزاء میں تبدیل کرتے ہیں۔

جذب (امتصاص): چھوٹی آنت کی دیواروں میں خراکیں (وٹامنز، معدنیات، اور دیگر غذائی عناصر) جذب ہوتی ہیں اور خون میں منتقل ہوتی ہیں۔ جذب ہونے والے عناصر مختلف ہوتے ہیں جیسے کہ گلوکوز، ایمینو ایسڈز، معدنیات، وٹامنز، اور چربی۔

ہضم ہونے والے غذائی مواد کا ختم ہونا: چھوٹی آنت میں غذائی مواد کا ہضم ہونے کا عمل مکمل ہوتا ہے اور وہاں سے باقی مادے گھلی ہضم ہونے کے بعد باہر نکل کر فضازی مواد (فیکل میٹر) بناتے ہیں جو بعد میں جسم سے باہر نکلتا ہے۔

چھوٹی آنت کا یہ معقول جذب و ہضم کا عمل جسم کو مختلف طریقوں سے غذائی عناصر فراہم کرتا ہے اور انہیں صحیح مقداروں میں خون میں منتقل کرتا ہے۔

خوراک کے انتخاب پر کون سے عوامل اثر انداز ہوتے ہیں؟ کسی دو پر مفصل تحریر کریں۔


عوامل جو خوراک کے انتخاب پر اثر انداز ہوتے ہیں:

ثقافتی و معاشرتی ممنوعات:خوراک کے انتخابات پر ثقافتی اور معاشرتی ممنوعات کا بہت بڑا اثر ہوتا ہے۔ ہر ملک یا علاقہ اپنی خصوصی غذائی روایات اور ممنوعات رکھتا ہے جو لوگوں کے خوراکی چارچے پر اثر انداز ہوتا ہے۔ مثلاً، کچھ مذہبی یا ثقافتی تعلیمات کے تحت کچھ خوراکیں ممنوع ہوتی ہیں اور لوگ ان ممنوعات کا خیال رکھتے ہیں اور انہیں شامل نہیں کرتے۔

آمدنی:فرد کی آمدنی بھی اس پر اثر ڈالتی ہے کہ وہ کس قسم کی خوراک اختیار کر سکتا ہے۔ زیادہ آمدنی والے افراد مختلف انوکھی اور متنوع خوراکیں خریدنے اور تنوع پسند غذائیں استعمال کرنے میں قابلیت حاصل کرتے ہیں۔ ان کے لئے غذائی چارچہ بھی بڑھ جاتا ہے جو مختلف مصرفیات پر مبنی ہوتا ہے۔

تعلیم:شعور، تعلیم، اور علم کی سطح بھی خوراک کے انتخابات پر اثر ڈالتی ہے۔ زیادہ تعلیم یافتہ افراد عام طور پر صحتمند غذائیں پسند کرتے ہیں اور ان کے خوراک کے انتخابات معیاری ہوتے ہیں۔ انہیں غذائی اقدار اور اہمیت کا خیال رہتا ہے جو ان کی صحت کے لئے مؤثر ہوتا ہے۔

صحتی حالت:شخص کی صحتی حالت بھی اس پر اثر انداز ہوتی ہے کہ وہ کیسی خوراک منتخب کرتا ہے۔ بیماریوں یا صحت کی مسائل کی صورت میں لوگ اکثر صحتمند غذائیں خریدتے ہیں اور چکناہٹ کرتے ہیں۔

علیحدگی:خود علیحدہ رہنے والے افراد کا خوراکی چارچہ مختلف ہوتا ہے۔ یہ لوگ اپنی پسندیدہ خوراکیں اور ذائقے کے مطابق اپنا خوراکی چارچہ بناتے ہیں۔

رسمیں اور عوامل:عیدیں، خصوصی مواقع، خاندانی رسمیں، اور مختلف مواقع پر خوراکیں بھی منتخب کرنے کا اہم کردار ہوتا ہے۔ ان رسموں اور مواقع پر موجود غذائیں مختلف ہوتی ہیں جو لوگ مشترکہ طور پر استعمال کرتے ہیں۔

یہ عوامل ملا کر ہر فرد کو مختلف خوراکیں منتخب کرنے پر مجبور کرتے ہیں اور ان کے خوراکی چارچے کو متأثر کرتے ہیں۔

تصویر کی مدد سے نظام انہضام کی وضاحت کریں نیز یہ تحریر کریں کہ ہم خوراک کیوں کھاتے ہیں؟

نظام انہضام کی وضاحت:

ہمارا نظام انہضام ہمارے جسم میں غذائی عناصر کو ہضم کرنے، جذب کرنے اور بیرونِ جسم نکالنے کا عمل ہے۔ یہ عمل خوراک کی تشکیل سے لے کر فضازی مواد (فیکل میٹر) کی تخلیق تک مختلف مراحل پر مبنی ہوتا ہے۔

ہضم: غذائی مواد ہمارے منہ سے شروع ہوتی ہے، جہاں دانت (ٹیتھ) اسے چباتے ہیں اور آنتڑوں (آنٹرالینگل) میں راہِ ہضم کے لئے تیار ہوتا ہے۔ پھر معدہ میں غذائی مواد کو ہضم کرنے والے انزائمات اور جوابی ایسڈز شامل ہوتے ہیں۔

جذب: ہضم ہونے والی خوراک کا بعد، چھوٹی آنت میں جذب ہوتا ہے۔ چھوٹی آنت کی دیواروں میں موجود خراکیں (غذائی عناصر) خون میں جذب ہو کر جسم کے مختلف حصوں میں منتقل ہوتی ہیں۔

پانی اور مواد کی تحلیل: چھوٹی آنت میں پانی اور اور مختلف مواد کی تحلیل بھی ہوتی ہے۔ یہاں جذب ہونے والے عناصر مختلف ہوتے ہیں جو جسم کے لئے ضروری ہیں۔

فضازی مواد کی تخلیق: چھوٹی آنت میں ہضم ہونے والے غذائی مواد کا عمل مکمل ہوتا ہے اور جسم کو غیر ضروری مواد کو فضازی مواد کی شکل میں خارج کرنے کا موقع ملتا ہے۔

خوراک کیوں کھاتے ہیں؟

ہم خوراک کھاتے ہیں تاکہ ہمارا جسم صحتمند رہے اور مختلف اعضاء اور نظامات کو وہ عناصر فراہم ہوں جو ان کی صحت و ترقی کے لئے لازمی ہیں۔ خوراک میں موجود پروٹینز، وٹامنز، معدنیات، کاربوہائیڈریٹس، اور دیگر غذائی عناصر ہماری صحت کو بنائی رکھنے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔ یہ عناصر جسم کو توانائی فراہم کرتے ہیں، عضلات کو بنیادی مواد فراہم کرتے ہیں، اور مختلف عضوی اعضاء کو صحتمند رکھنے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔

خوراک کے ہضم ہونے میں لبلبہ کیا اہم کردار ادا کرتا ہے؟ مفصل لکھیں۔

لبلبہ (stomach) ہضمی نظام کا اہم حصہ ہے اور خوراک کے ہضم ہونے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ لبلبہ کی طرف سے انزائمات کا اخراج ہوتا ہے جو خوراک کے انگڑائی حصے کو ہضم کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔ لبلبہ کے عملات کو مندرجہ ذیل مراحل میں خلاصہ کیا جا سکتا ہے:

پیدا ہونے والا جوہر (Acid Production): لبلبہ میں ہضمی نظام میں ایک طرف ہضم ہونے والی خوراک کو چھوڑتا ہے اور دوسری طرف انزائمات کی مدد سے اسے ہضم کرتا ہے۔ لبلبہ میں ہائیڈروکلوئرک ایسڈ (hydrochloric acid) پیدا ہوتا ہے جو خوراک میں موجود غذائی مواد کو تقسیم کرنے اور ہضم کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔

پپسین اور انزائمات کی پیدائش (Production of Pepsin and Enzymes): لبلبہ میں پپسین (pepsin) اور دیگر ہضمی انزائمات کی پیدائش بھی ہوتی ہے۔ پپسین خوراک میں موجود پروٹینز (proteins) کو چھوٹے حصوں میں تقسیم کرتا ہے تاکہ دیگر انزائمات اور لبلبہ کے ایسڈ کی مدد سے ان کا ہضم ہو سکے۔

ہضمی نظام کا حرکت پذیر ہونا (Muscular Activity of the Digestive System): لبلبہ کے دیواروں میں موجود عضلات ہضمی نظام کا حصہ ہیں جو مختلف حرکات کرتی ہیں تاکہ خوراک ہضم ہونے میں مدد فراہم ہو۔ یہ حرکات خوراک کو چھوٹے ٹکڑوں میں تقسیم کرنے اور اس کو لبلبہ کے مختلف حصوں میں حرکت دینے میں مدد فراہم کرتی ہیں۔

غذائی مواد کا خراکیں بناتا ہے (Chyme Formation): لبلبہ میں ہضم ہونے والی خوراک کا حاصل شدہ مادہ کائیم (chyme) ہوتا ہے جو چھوٹی آنت کی طرف حرکت کرتا ہے۔

آنٹی اسائڈز کا نظام (Acidic Environment): لبلبہ میں موجود ہائیڈروکلوئرک ایسڈ ایک آنٹی اسیدی ماحول فراہم کرتا ہے جو خوراک میں موجود بیکٹیریا اور دیگر خطرات کو مارتا ہے اور صحتمند نظام انہضام کو برقرار رکھتا ہے۔

لبلبہ کے ان اہم کردارات کی بدولت، ہضمی نظام میں غذائی مواد کو ہضم کرنے میں مدد ملتی ہے اور یہ جسم کو ضروری عناصر فراہم کرتا ہے جو صحتمندی کے لئے لازمی ہیں۔

جغرافیائی ماحول غذائی ضروریات پر کس طرح اثر انداز ہوتا ہے؟ مثالوں کی مدد سے وضاحت کریں۔

جغرافیائی ماحول غذائی ضروریات پر متاثر ہوتا ہے چونکہ مختلف علاقوں میں زمین، آب، موسمات، اور محلی تاریخی وراثت مختلف ہوتی ہے، جس سے انسانوں کی غذائی عادات اور خوراک میں مختلفیت پیدا ہوتی ہے۔ یہاں کچھ مثالوں کے ذریعے جغرافیائی ماحول کے اثرات پر غذائی ضروریات کی وضاحت ہوتی ہے:

آب و ہوا کی موارد:

مثال: جنوبی علاقوں میں موجود گرم تھاقین میں زیادہ تر آبی پھل، جیسے کہ کینو، انگور، اور خربوز، کا تربوز خصوصاً پایا جاتا ہے۔ یہاں زرعی اہمات مختلف ہوتی ہیں جو اس ریاستی جغرافیائی ماحول کی خصوصیات کو مظاہرہ کرتی ہیں۔

پیداوار کی موسمات:

مثال: برف برفانی علاقوں میں پیدا ہونے والے چائے کے پتے جیسی مصنوعات عالمی بزرگ پسند کی جاتی ہیں۔ یہاں گرمیوں میں برف برفانی علاقوں کی مصنوعات غیر معمولی مقدار میں پیدا ہوتی ہیں اور اس کے استعمال میں اضافہ ہوتا ہے۔

موقعیت اور مواقع:

مثال: ساحلی علاقوں میں موجود ہونے والے مچھلی اور دیگر سمندری خوراکیں موجود ہونے کی بنا پر ماہرین اس علاقے کی خوراک میں مچھلیوں کا زیادہ استعمال کرتے ہیں۔

ملکی تاریخی وراثت:

مثال: مغربی ایشیائی ملکوں میں چاول اور دالیں غالب ہیں اور یہی ان کی ملکی تاریخی وراثت کو مظاہرہ کرتا ہے۔ یہاں ہضم ہونے والے غذائی مواد مختلف ہوتے ہیں جو ان کے مقامی خوراکی چارچے کو عکس کرتے ہیں۔

زمینی سلسلے اور قدرتی محدودیتیں:

مثال: صحرائی علاقے میں ہضم ہونے والے خوراک میں خشک میوے اور موادات میں غنی زیادہ ہوتی ہیں۔ یہاں موقعی غذائی چارچہ صحتمند نہیں ہوتا۔

جغرافیائی ماحول غذائی ضروریات پر متاثر ہوتا ہے اور مختلف علاقوں میں لوگوں کی خوراک کی تشکیل میں مختلفیت پیدا ہوتی ہے۔

آنت کی ساخت اور عضلاتی حرکت کے متعلق تفصیل سے لکھیں۔

آنت (Small Intestine) ہمارے ہضمی نظام کا اہم حصہ ہے، جو خوراک کو ہضم کر کے جسم میں غذائی عناصر کو جذب کرنے کا کام کرتا ہے۔ آنت متعلقہ حقائق مندرجہ ذیل ہیں:

لمبائی:

آنت ایک لمبی تار ہوتی ہے اور عام طور پر 20 فٹ (تقریباً 6 میٹر) تک کی ہوتی ہے۔ یہ لمبائی اس کے اندر ہوضا (Villus) کے زیادہ ہونے سے حاصل ہوتی ہے جو اس کے واروں کی سطح میں اضافہ کرتا ہے۔

آنت کی تین حصے:

آنت تین حصوں میں مقسم ہوتی ہے: ڈوڈینم (Duodenum)، جوئیلیم (Jejunum)، اور ایلیئم (Ileum)۔ ڈوڈینم خوراک کو معدے سے آنت میں منتقل کرتا ہے جبکہ جوئیلیم اور ایلیئم میں جذب و رطوبت کا عمل ہوتا ہے۔

آنت کی دیوار:

آنت کی دیوار متداولاً چار لیے پر مشتمل ہوتی ہے: مخاطی تخمیر (Mucosa), زیریں پتلا (Submucosa), عضلاتی پتلا (Muscularis), اور بیرونی تخمیر (Serosa)۔

ہضمی غدود:

آنت کی دیوار میں مختلف ہضمی غدود موجود ہوتے ہیں جو ہضم کرنے میں مدد فراہم کرتے ہیں، جیسے کے انتروکائیس (Enterocytes) جو جذب کرنے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔

وارے (Villi) اور انگڑائیں (Microvilli):

آنت کی دیوار میں وارے اور انگڑائیں پائی جاتی ہیں جو اس کی سطح میں اضافہ کرتی ہیں اور جذب کرنے میں مدد فراہم کرتی ہیں۔ انتروکائیس میں موجود واروں کے ذریعے نوعیتی جذبیت (selective absorption) ہوتی ہے جس سے صحتمند غذائی عناصر کو جذب کیا جاتا ہے۔

آنت کی حرکت:

آنت کی دیوار میں موجود عضلات ہضمی نظام کی حرکتیں فراہم کرتی ہیں جو خوراک کو آنت کے اندر حرکت دینے میں مدد فراہم کرتی ہیں۔

عضلاتی حرکت:

آنت کی دیوار میں موجود عضلات تناو اور لچک دینے میں مدد فراہم کرتی ہیں جو خوراک کو ہضم کرنے اور جذب کرنے میں مدد فراہم کرتی ہیں۔ عضلاتی حرکتیں آنت کو مختلف مراحل میں گھماتی ہیں تاکہ غذائی عناصر کو مکمل طور پر جذب کیا جا سکے۔

آنت ایک مہم حصہ ہے جو خوراک کے ہضم ہونے اور صحتمند غذائی عناصر کو جذب کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔

Here is some other assignments solution….

Assignment No 1 Solution Course Code 206

Assignment No 2 Solution Course Code 206

Assignment No 4 Solution Course Code 202

Assignment No 4 Solution Course Code 200

Assignment No 3 Solution Course Code 200

Assignment No 2 Solution Course Code 201

Solved Assignment No 3 Course Code 201

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *