Assignment No 2 Solution Course Code 218

غیر تیاری عضلات سے کیا مراد ہے؟

“غیر تیاری عضلات” کا مطلب ہوتا ہے کہ کسی شخص کی عضلات اچانک یا بغیر کسی مشن کی تیاری کے بغیر کام نہیں کر رہی ہوتیں، یعنی اگر اچانک زیادہ مشقت یا ورزش کا آغاز ہوتا ہے تو شخص کو مشکل ہوتی ہے اور وہ اچانکی مشقت یا ورزش کے لئے تیار نہیں ہوتا۔

عام طور پر، وقت کے ساتھ ملتی جلتی تربیت سے عضلات تیار ہو جاتی ہیں اور شخص کا جسم اچھی حالت میں رہتا ہے۔ اگر کسی کو وقت کی کمی ہوتی ہے یا وہ ورزش یا مشقت کا عادی ممارس نہ ہوتا ہو تو اُس کی عضلات اچانک کمزور ہو جاتی ہیں اور اُسے مشقت یا ورزش کرنے میں مشکل ہوتی ہے، جسے “غیر تیاری عضلات” کہا جاتا ہے۔

یہ وضعیت عام طور پر اُس وقت پیش آتی ہے جب شخص ورزش یا مشقت کو ترک کر دیتا ہے اور پھر دوبارہ شروع کرتا ہے یا اگر کسی کو ورزش یا مشقت کا عادی ممارس نہیں ہوتا۔

کیمیائی حرارت سے جلنے کی علامات مختصر الکھیں۔

کیمیائی حرارت سے جلنے کی علامات مختصر طور پر مندرجہ ذیل ہوتی ہیں

رنگ تبدیلی کچھ کیمیائی عملوں میں حرارت سے جلنے کی بنا پر رنگ میں تبدیلی آتی ہے۔ یہ رنگ تبدیلی مشاہدہ کرنے والوں کو بتاتی ہے کہ کچھ تبدیلیاں ہو رہی ہیں۔

گیس کی پیدائش بعض اوقات، جلنے کی بنا پر گیس کا آزاد ہونا ایک علامت ہوتی ہے۔ یہ گیس کی خارجی بہترین طریقہ ہوتی ہے جس سے ہم انفجار یا بقائی علامات کا تجربہ کر سکتے ہیں۔

حرارتی آزادی جلنے کی بنا پر حرارت کا آزاد ہونا بھی ایک علامت ہوتی ہے۔ گرم ہونے یا ٹھنڈا ہونا کچھ عملوں کی علامت ہوتی ہے کہ کمیائی تبدیلی رخ چکی ہے۔

بلبلے عملوں میں جلنے کی بنا پر گیس کے بلبلے بنتے ہیں جو ایک علامت ہوتی ہے کہ کچھ گیس آزاد ہو رہی ہے۔

روشنی کی پیدائش بعض کچھ عملوں میں جلنے کی بنا پر روشنی کی پیدائش ہوتی ہے جو دیگر علامات کے علاوہ ہوتی ہے۔

ساکن ہوا بعض معمولاً کچھ عملوں میں جلنے کی بنا پر ٹہوک یا ریکٹنٹس کا انفعال ہوتا ہے اور یہ آکسائیڈیشن یا ریدکشن کی بنا پر ساکن حالت میں گراوٹ یعنی “پریسیپٹیٹ” بنتا ہے۔

نظام تنفس میں پھیپھڑوں کا کیا کردار ہے؟

پھیپھڑے نظام تنفس کا اہم حصہ ہیں اور ان کا کردار ہوا کی بدلتے ہوئے آکسیجن کو جسم میں سپرد کرنا اور کاربن ڈائی اوکسائیڈ کو خارج کرنا ہوتا ہے۔ یہاں ان کے مختلف کردارات چند ہیں:

آکسیجن کی خود جذب پھیپھڑے جوہری جلول کے ذریعے ہوا کو اندر لیتے ہیں اور اس ہوا میں موجود آکسیجن کو خون میں گھولتے ہیں۔

کاربن ڈائی اوکسائیڈ کی الگ کرنا خون میں موجود گیس کاربن ڈائی اوکسائیڈ (CO2) کو پھیپھڑوں میں ہونے والی گیسوں کے ذریعے خارج کرتے ہیں۔

حرارتی اور رطوبتی تبادلہ ہوا کا اندر لے کر اور خارج کرتے وقت پھیپھڑے حرارت اور گیلاپن ایک موزوں تبادلہ کرتے ہیں تاکہ ہوا جسم کے اندر داخل ہوتا ہے اور باہر نکلتا ہے۔

خون کو ترتیب دینا آکسیجن سے بھرا ہوا خون کو پھیپھڑوں میں ملتا ہے اور یہاں سے یہ خون دوسرے اعضاء کی طرف جاتا ہے جو جسم کو آکسیجن فراہم کرتا ہے۔

اورگنز کو صحتمند رکھنا آکسیجن کے فراہم ہونے سے اعضاء اور اندرنی کلانڈز کو فعال رکھا جاتا ہے تاکہ وہ صحتمند طریقے سے کام کر سکیں۔

پھیپھڑوں کا کردار نظام تنفس میں بہت اہم ہے اور یہ ہمارے جسم کو مختلف جگہوں سے حاصل ہونے والے آکسیجن کو استعمال کرتے ہوئے صحتمند رہنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔

جسم پر ٹو کے اثرات کا مختصر بیان کریں۔

جسم پر ٹو کے اثرات نوٹروپیک سبسٹنسز یا ڈرگز کی طرح ہوتے ہیں جو عام طور پر دہائی، توجہ، یاداشت اور دماغی فعالیت میں اضافہ کرنے کے لئے استعمال ہوتے ہیں۔ ٹو کے مختصر اثرات مندرجہ ذیل ہوتے ہیں:

توجہ اور یاداشت میں بہتری: ٹو کے کا استعمال توجہ اور یاداشت میں بہتری لے آ سکتا ہے۔ یہ مدد فراہم کرتا ہے تاکہ شخص کسی مختلف تفصیلات پر دھیان دے اور یاد رکھے۔

دہائی اور حالت چستی: ٹو کے جوابی اثرات میں دہائی کم ہوتی ہے اور افراد میں حالت چستی اور زندگی بھرتی کا احساس ہوتا ہے۔

تناسب اور موازنہ: ٹو کے کا استعمال افراد کو موازنہ اور تناسب کی بہتری میں مدد فراہم کر سکتا ہے۔

دماغی فعالیت میں اضافہ: ٹو کے کے استعمال سے دماغی فعالیت میں اضافہ ہوتا ہے، جس سے محنتی کاموں میں بہترین پیشگوئی ہوتی ہے۔

استراحت میں بہتری: ٹو کے اثرات کی بنا پر افراد کم تھکان اور زیادہ استراحت محسوس کرتے ہیں۔

مضبوط تشویش کا مقابلہ: ٹو کے استعمال سے افراد مختلف تشویشوں اور زہر زدہ مواقع کا مقابلہ بہتری سے کرتے ہیں۔

مزید جذباتی مستقری: ٹو کے کا استعمال جذباتی مستقری اور مزید ہوش میں رہنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔

یہاں رہے کہ ٹو کے ڈرگز کا استعمال ڈاکٹر کی مشورہ حاصل کرنے کے بعد کیا جانا چاہئے اور ڈاکٹر کی ہدایت کے بغیر انہیں استعمال نہ کیا جائے۔ ان کی مصرف کرنے کے مختلف طریقے ہیں، جیسے کہ ٹو کے کیپسول، ٹو کے چائے، یا دوسرے مندرجہ بالا شکلیں۔

جلنے کی صورت میں کیا طبی امداد دی جاسکتی ہے؟

جلنے کی صورت میں طبی امداد کرنے کا طریقہ متعدد عوامل پر مبنی ہوتا ہے، جیسا کہ جلے ہوئے حصے کی بڑائی، جلتے ہوئے چیز کی قسم، اور زخم کی گہرائی۔ یہاں کچھ عام اقدامات بتائی گئی ہیں جو جلنے کی صورت میں امداد دینے میں مدد فراہم کر سکتی ہیں:

ٹھنڈا پانی: جلے ہوئے حصے کو فوراً ٹھنڈا پانی سے دھونا شروع کریں۔

ٹھنڈا غلاظت: جلے ہوئے حصے کو ٹھنڈے پانی یا برف کے ساتھ چھپا دیں تاکہ جلنے کی حس میں کمی ہو۔

درد کم کرنے والے ڈرگز: درد کم کرنے والے ڈرگز جیسے کہ اسپرن یا پیریسیٹامول کا استعمال کر سکتے ہیں، لیکن ڈاکٹر کی ہدایت کے بغیر نہیں۔

عرقی تدابیر: جلنے کی صورت میں عرقی تدابیر بھی مدد فراہم کر سکتی ہیں۔ عرق سے نم ہوئے چمچ یا کپڑے کو جلے ہوئے حصے پر رکھیں تاکہ تسکین حاصل ہو۔

دردناک چیزوں سے بچاؤ: جلنے کے بعد دردناک چیزوں سے بچنا چاہئے، جیسے کہ گرم چیزیں، چپکلی، یا بچوں کے کھیلوں کے بریڈینگ کچھرے۔

چکراؤ کریم: چکراؤ کریم یا چکراؤ سپرے کا استعمال کرنا بھی جلنے کی صورت میں مدد فراہم کرتا ہے۔

چکراؤ نہ کریں: جلنے والے حصے پر چکراؤ یا چمچ لگانے سے بچنا چاہئے تاکہ زخم میں اور زیادہ تکلیف نہ ہو۔

ڈاکٹر کی مشورہ: اگر جلنے والا زخم بڑا ہو یا زیادہ گہرا ہو، یا اگر جلنے کی حالت میں فرق نہ آئے تو فوراً ڈاکٹر سے رابطہ کریں۔

یہاں رہیں کہ یہ تدابیر معمولی جلے ہوئے حصے کے لئے ہیں۔ اگر زخم بڑا ہو یا اگر جلنے کا باعث کوئی کیمیائی، حرارتی یا برقی حادثہ ہوا ہو تو فوراً ایمرجنسی پروسیجر کو فراہم کریں اور ڈاکٹر کی رہنمائی سے فوراً علاج کروائیں۔

عمل تنفس اور اعصابی نظام کے بارے میں مفصل لکھیں۔

عمل تنفس

عمل تنفس انسانوں اور دیگر جانوروں کے لئے زندگی کا ایک لازمی حصہ ہے، جو اکثر اوہی کا عمل کرتا ہے۔ یہ نظام جسم کو آکسیجن فراہم کرتا ہے جو خون کے ذریعے اعضاء تک منتقل ہوتا ہے اور جو میں گیس کاربن ڈائی اوکسائیڈ کو جسم سے باہر نکالتا ہے۔ عمل تنفس کو دو حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے:

دخانی تنفس یہ عمل تنفس وہ ہوتا ہے جب ہوا جسم کی بیرونی حصے سے لی جاتی ہے، جیسے کہ ناک یا منہ، اور اسے فعال جسمانی عمل کے ذریعے پھیپھڑوں تک پہنچایا جاتا ہے۔ یہاں ہوا سے آکسیجن جذب ہوتی ہے اور کاربن ڈائی اوکسائیڈ باہر نکالا جاتا ہے۔

سلولی تنفس : یہ عمل تنفس جسم کے اندریں ہوتا ہے اور جسم کے خلیوں میں سلولی فعالیتوں کے دوران آکسیجن استعمال ہوتا ہے جو کاربن ڈائی اوکسائیڈ میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ اس طرح سے حاصل ہونے والی انرژی خلیوں کی فعالیتوں میں استعمال ہوتی ہے اور ضروری جسمانی عمل کو ممکن بناتی ہے۔

اعصابی نظام

اعصابی نظام جسم کا ایک اہم نظام ہے جو اعصاب دماغ اور ریڑھ کی ہڈیکو شامل کرتا ہے۔ اس نظام کا مقصد جسم کی مختلف حصوں کو مختلف محرکات کیلئے ردعمل کرانا اور ان محرکات کو کنٹرول کرنا ہے۔ اعصابی نظام دو حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے:

مرکزی اعصابی نظام مرکزی اعصابی نظام دماغ اور ریڑھ کی ہڈی پر مبنی ہوتا ہے اور یہ جسم کے تمام عمل کو کنٹرول کرتا ہے۔

پیرفرل اعصابی نظام پیرفرل اعصابی نظام دماغ اور ریڑھ کی ہڈی کے علاوہ جسم کے باقی حصوں کو شامل کرتا ہے اور جسم کے مختلف حصوں کو CNS کے ساتھ منسلک کرتا ہے۔

اعصابی نظام مختلف اعمال کو کنٹرول کرتا ہے جیسے حرکت، حسنسیت، خود میں حفظ کرنا، اور دماغی فعالیتوں کو ممکن بناتا ہے۔ اس نظام کا ایک مہم خصوصیت ہے کہ یہ اعمال کو فوراً کنٹرول کرتا ہے اور جسم کو محیطی حالات کے مطابق تنظیم کرتا ہے۔

خشک حرارت سے جلنے کے بارے تفصیل سے تحریر کریں۔

خشک حرارت سے جلنے کا عام طور پر مطلب ہے کہ جسم کو حرارت اور چمک کی بڑھتی ہوئی محدود مدتوں کے لئے اثر ہوتا ہے۔ یہ مسئلہ خصوصاً گرم علاقوں میں گرمیوں کے دوران اور صحراؤں میں زیادہ معمولی ہوتا ہے۔ خشک حرارت سے جلنے کے عمدہ باعثوں میں درج ذیل شامل ہیں:

تشویش خشک حرارت میں تشویش ہونے کا خدشہ زیادہ ہوتا ہے۔ گرمیوں میں زیادہ پسینے کا انخلا اور ہوا میں چلنے سے جسم سے پانی کی ضیاع ہوتا ہے، جس سے تشویش کا خطرہ بڑھتا ہے۔

چمک سے حفاظت: خشک حرارت میں شدت سے تابکاری کرنے والی سورج کی روشنی سے جلنے کا خطرہ بڑھتا ہے۔

پوشیدگی میں مدد: خشک حرارت سے جلنے سے بچنے کے لئے ٹوپی، چھاتی، اور ٹھنڈی لباسوں کا استعمال کریں۔

پانی کی کمی: خشک حرارت میں پسینہ زیادہ بنتا ہے جس سے جسم سے پانی کی زیادہ کمی ہوتی ہے۔

گرمیوں میں کمیابی کی مشکلات: خشک حرارت میں گرمیوں کے دوران کمیابی کی مشکلات بھی بڑھتی ہیں، جیسا کہ کھیتوں میں پودوں کو پانی دینے میں مشکل ہونا اور جانوروں کے لئے چارہ تیار کرنا۔

جلد کی سوختگی: گرمیوں میں خشک حرارت سے جلنے کی بنا پر جلد پر سوختگی ہوتی ہے، جس سے چکاٹ، خارش، اور درد ہوتا ہے۔

احتیاطی تدابیر

ٹوپی، چھاتی، اور ٹھنڈی لباسوں کا استعمال کریں۔

پانی کی زیادہ مقدار میں پیئیں اور پانی سے چھڑکائیں۔

گرمیوں میں بھری تیز ہوا سے بچنے کیلئے پروازیں اور بڑھتے ہوئے ہوا کی تیزیوں سے احتیاط کریں۔

دن میں زیادہ تشدد کے وقتوں میں باہر نہ جائیں اور گرمیوں میں خارج ہونے کی اہمیت کو سمجھیں۔

جلد کو چمک اور شیشے کی روشنی سے بچانے کیلئے چہرہ چھپائیں یا چھائیں۔

گرمیوں میں چمک کا خطرہ بڑھتا ہے، اس لئے صحت کیلئے نکاتیں اور چمکوں کا استعمال کم کریں۔

یہ مفصل تدابیر گرمیوں میں خشک حرارت سے جلنے کے خطرے سے بچنے میں مدد فراہم کرتی ہیں۔

جلنے کے کتنے درجے ہیں؟ ہر درجے میں ہمارا جسم کسی طرح متاثر ہوتا ہے؟

جلنے کے کئی درجے ہوتے ہیں جو حرارت کے معیاری اندازے کرنے کے لئے استعمال ہوتے ہیں۔ ان درجوں کو “سیلسیئس یا “فارن ہائیٹ میں ناپا جاتا ہے۔

سردی ایک سرد دن میں درجہ حرارت 10 یا 15 سیلسیئس (50 یا 59 فارن ہائیٹ) ہوتا ہے۔ اس درجے میں جسم کو ٹھنڈا محسوس ہوتا ہے اور لباس کونفرٹیبل ہوتی ہے۔

ٹھنڈک ٹھنڈک کے درجے حرارت 16 سیلسیئس تا 21 سیلسیئس (60 تا 70 فارن ہائیٹ) ہوتے ہیں۔ ٹھنڈک میں بھی جسم اچھی طرح ٹھنڈا رہتا ہے اور لوگ لباسوں میں محترم ہوتے ہیں۔

نرمال نرمال حرارت کے درجے 22 سیلسیئس تا 27 سیلسیئس (71 تا 80 فارن ہائیٹ) ہوتے ہیں۔ یہ حرارت لوگوں کو کمیابی اور راحت محسوس ہوتی ہے۔

گرمی گرمی حرارت کے درجے 28 سیلسیئس تا 33 سیلسیئس (81 تا 91 فارن ہائیٹ) ہوتے ہیں۔ اس درجے میں جسم ٹھنڈا رہتا ہے لیکن آپس میں ٹھنڈک محسوس ہوتی ہے۔

گرم گرم حرارت کے درجے 34 سیلسیئس تا 39 سیلسیئس (93 تا 102 فارن ہائیٹ) ہوتے ہیں۔ اس درجے میں جسم گرم ہوتا ہے اور شدت محسوس ہوتی ہے۔

بہت گرم بہت گرم درجے حرارت 40 سیلسیئس یا اس سے زیادہ ہوتے ہیں۔ اس درجے میں جسم کو بہت زیادہ گرمی محسوس ہوتی ہے اور یہ صحت کے لحاظ سے خطرناک ہوتا ہے۔

ہر درجے حرارت میں جسم مختلف طریقوں سے متاثر ہوتا ہے۔ سردیوں میں جسم ٹھنڈا رہتا ہے جبکہ گرمیوں میں گرمی محسوس ہوتی ہے اور اچھی طرح ٹھنڈا رہنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ جلنے کے اثرات کمیابی، صحت، اور مختلف دنیائی اندازوں پر متاثر ہوتے ہیں۔

پسلیاں اور سینے کی ہڈیوں کے بارے میں مفصل تحریر کریں۔

پسلیاں

تعریف
پسلیاں چھاتی کے حصے کو چھپانے والی ہڈیاں ہوتی ہیں۔ یہ جسم کی حفاظت میں اہم کردار ادا کرتی ہیں اور تنفسی نظام کو مدد فراہم کرتی ہیں۔

تقسیمات

اصل پسلیاں یہ ساتھ ہڈیاں ہیں جو چھاتی کی چھپائیں ہوتی ہیں۔ چھاتی میں مجموعہ 12 اصل پسلیاں پائی جاتی ہیں جو سب سے اوپر سے لے کر نچلے تک چھاتی کو چھپاتی ہیں۔

جھولیوں کے ساتھ پسلیاں چھاتی کی نچلی کسی جفاک کی ہڈیاں جھولیوں سے جڑی ہوتی ہیں۔ یہ 8، 9، اور 10 جفاکوں میں پائی جاتی ہیں۔

لڑکے ہوئے پسلیاں یہ 11 اور 12 جفاکوں میں پائی جاتی ہیں اور ان کا کوئی جھولیوں سے جڑا ہوا حصہ نہیں ہوتا۔

کردار

حفاظت: پسلیاں چھاتی کو حفاظت میں مدد فراہم کرتی ہیں۔

تنفسی نظام: پسلیاں تنفسی نظام کا حصہ ہوتی ہیں اور ان کی حرکت سے چھاتی کا حجم بڑھتا ہے جو تنفس کو ممکن بناتا ہے۔


سینے کی ہڈیاں

تعری:سینے کی ہڈیاں ایک لمبی، چوڑی ہڈی ہوتی ہے جو چھاتی کے مرکز میں پائی جاتی ہے اور پسلیوں کو ایک دوسرے سے جوڑتی ہے۔

اجزاء

منہ چھاتی کے اوپر حصے میں واقع ہوتا ہے اور پسلیوں کے پہلے جفاک کے ساتھ جڑا ہوتا ہے۔

چھاتی کا مرکزی حصہ منہ کے بعد آتا ہے اور پسلیوں کے دوسرے اور تیسرے جفاکوں کے ساتھ جڑا ہوتا ہے۔

دانت چھاتی کے نچلے حصے میں واقع ہوتا ہے اور پسلیوں کے آخری جفاک کے ساتھ جڑا ہوتا ہے۔

کردار

حفاظت سینے کی ہڈیاں چھاتی کو حفاظت میں مدد فراہم کرتی ہیں۔

تنفسی نظام: چھاتی کے اندر بنی ہوئی ہڈیاں تنفسی میں ایک اہم کردار ادا کرتی ہیں اور تنفسی عمل کو ممکن بناتی ہیں۔

جھلنے سے کیا مراد ہے نیز اس کی علامات اور اس کی طبی امداد کے بارے میں مفصل لکھیں۔

پسلیاں

تعریف
پسلیاں چھاتی (Thorax) کے حصے کو چھپانے والی ہڈیاں ہوتی ہیں۔ یہ جسم کی حفاظت میں اہم کردار ادا کرتی ہیں اور تنفسی نظام کو مدد فراہم کرتی ہیں۔

تقسیمات

اصل پسلیاں یہ ساتھ ہڈیاں ہیں جو چھاتی کی چھپائیں ہوتی ہیں۔ چھاتی میں مجموعہ 12 اصل پسلیاں پائی جاتی ہیں جو سب سے اوپر سے لے کر نچلے تک چھاتی کو چھپاتی ہیں۔

جھولیوں کے ساتھ پسلیاں چھاتی کی نچلی کسی جفاک کی ہڈیاں جھولیوں سے جڑی ہوتی ہیں۔ یہ 8، 9، اور 10 جفاکوں میں پائی جاتی ہیں۔

لڑکے ہوئے پسلیاں یہ 11 اور 12 جفاکوں میں پائی جاتی ہیں اور ان کا کوئی جھولیوں سے جڑا ہوا حصہ نہیں ہوتا۔

کردار

حفاظت: پسلیاں چھاتی کو حفاظت میں مدد فراہم کرتی ہیں۔

تنفسی نظام: پسلیاں تنفسی نظام کا حصہ ہوتی ہیں اور ان کی حرکت سے چھاتی کا حجم بڑھتا ہے جو تنفس کو ممکن بناتا ہے۔


سینے کی ہڈیاں

تعریف
سینے کی ہڈیاں ایک لمبی، چوڑی ہڈی ہوتی ہے جو چھاتی کے مرکز میں پائی جاتی ہے اور پسلیوں کو ایک دوسرے سے جوڑتی ہے۔

اجزاء

منہ چھاتی کے اوپر حصے میں واقع ہوتا ہے اور پسلیوں کے پہلے جفاک کے ساتھ جڑا ہوتا ہے۔

چھاتی کا مرکزی حصہ منہ کے بعد آتا ہے اور پسلیوں کے دوسرے اور تیسرے جفاکوں کے ساتھ جڑا ہوتا ہے۔

دانت چھاتی کے نچلے حصے میں واقع ہوتا ہے اور پسلیوں کے آخری جفاک کے ساتھ جڑا ہوتا ہے۔

کردار

حفاظت: سینے کی ہڈیاں چھاتی کو حفاظت میں مدد فراہم کرتی ہیں۔

تنفسی نظام: چھاتی کے اندر بنی ہوئی ہڈیاں تنفسی میں ایک اہم کردار ادا کرتی ہیں اور تنفسی عمل کو ممکن بناتی ہیں۔

عضلات کی اقسام اور جسم میں ان کے افعال تحریر کریں۔

عضلات انسانی جسم کی اہم اجزاء میں سے ایک ہیں اور ان کا کردار جسم کو حرکت، قوت، اور استقامت میں مدد فراہم کرنا ہوتا ہے۔ عضلات مختلف اقسام کی ہوتی ہیں جو مختلف کاموں کے لئے ذخیرہ ہوتی ہیں۔ یہاں مختلف اقسام کی عضلات اور ان کے افعال کی تشریح دی گئی ہے:

عضلات چھاتی

پیکٹورلس چھاتی کی سطح پر واقع ہوتا ہے اور چھاتی کو باہر کی طرف لے جاتا ہے۔

سیراتس چھاتی کے کنارے حصے میں ہوتا ہے اور بازو کو باہر کی طرف لے جاتا ہے۔

عضلات بازو

بائسپس اوپری بازو کی سطح پر ہوتا ہے اور آپس میں قریبی موڑ پر جوڑا جاتا ہے۔

ٹرائسپس اوپری بازو کی سطح پر ہوتا ہے اور آپس میں دوری موڑ پر جوڑا جاتا ہے۔

براکیالس ہمیشہ ہی کثیف رہنے والا بازو کا عضلہ ہوتا ہے اور بائسپس اور ٹرائسپس کے درمیانی حصے میں واقع ہوتا ہے۔

عضلات کمر

لیٹس دورسی کمر کی پس منہ سطح پر ہوتا ہے اور بازو کو باہر کی طرف لے جاتا ہے۔

تراپیزیوس گردن اور کندھوں کو چھوڑ کر پورے پیٹھ کو ڈھانپتا ہے۔

عضلات پیٹ

ریکٹس ابدومینس پیٹ کے وسط میں ہوتا ہے اور جلد کو اوپر کی طرف لے جاتا ہے۔

اوبلیکس پیٹ کے کنارے حصے میں ہوتا ہے اور جانب کی حرکات میں مدد فراہم کرتا ہے۔

عضلات پیچھے کی ٹانگ

ہیمسٹرنگز ریڑھ کی چپڑی، سوراخ کے نیچے واقع ہوتے ہیں اور ٹانگوں کو چھوڑ کر پیچھے کی طرف لے جاتے ہیں۔

کوڈرائس ریڑھ کی چھپڑی کے اوپر واقع ہوتے ہیں اور ٹانگوں کو باہر کی طرف لے جاتے ہیں۔

عضلات آگے کی ٹانگ

ٹبالیس اینٹیرائس ٹانگوں کے سامنے حصے میں ہوتا ہے اور پیچھے کی طرف پائے جاتے ہیں۔

کلفز پنجہ کے نیچے حصے میں ہوتے ہیں اور اوپر کی طرف لے جاتے ہیں۔

عضلات جلدی

زیگومیٹکس ہنسی میں مدد فراہم کرتا ہ

لو اور ٹھنڈ لگنے کی وجوہات تحریر کریں نیز بتائیں کہ لو اور ٹھنڈ سے کیسے بچاؤ ممکن ہے؟ جواب مفصل تحریر کریں۔

لو اور ٹھنڈ لگنے کی وجوہات

لو لگنے کی وجوہات

جلد کی رطوبت کا کم ہونا: جلد کی رطوبت کم ہونے سے، خصوصاً سرد ماہینوں میں، لو لگ سکتا ہے۔ یہ جلد کو خشک اور چکنا بناتا ہے جس سے لو کا خطرہ بڑھتا ہے۔

کھلی جگہوں پر موجود ہوا: برف یا ہوا میں زیادہ وقت گزارنے سے بھی جلد کا لون تبدیل ہوتا ہے اور لو لگتا ہے۔

جلد کی بھٹی یا رنگنے والے مصالحوں کا استعمال: جلد کی بھٹی یا رنگنے والے مصالحوں کا زیادہ استعمال بھی جلد کو نقصان پہنچا سکتا ہے اور لو کا شکار بنا سکتا ہے۔

ٹھنڈ لگنے کی وجوہات

زیادہ سردی: برف بریزنے یا ہوا میں زیادہ سردی ہونے پر جلد پر ٹھنڈک چھائی رہتی ہے جس سے ٹھنڈ لگتا ہے۔

خشک ہوا: خشک ہوا جلد کی رطوبت کو خارج کرتا ہے اور جلد خشک ہوکر ٹھنڈی محسوس ہوتی ہے۔

زیادہ ہوا چلنا: زیادہ ہوا چلنے سے بھی جلد کی چھاؤں میں ٹھنڈک محسوس ہوتی ہے۔

لو اور ٹھنڈ سے بچاؤ

لو سے بچاؤ

رطوبت کی محافظت: جلد کو رطوبت میں رکھنے کیلئے مرطوب کن لوشن یا موسچرائزر استعمال کریں۔

جلدیں دھونے کا طریقہ: جلدیں بار بار دھونے سے گندگی اور ترشیں دور ہو جاتی ہیں، جو لو کو روکتا ہے۔

سرد موسم میں چھپاپن: سرد موسم میں لو سے بچنے کیلئے گرم لباسوں، ہیٹرز، اور چھائیوں کا استعمال کریں۔

ٹھنڈ سے بچاؤ

گرم لباسیں پہنیں: سرد موسم میں گرم لباسیں پہننا جلد کو ٹھنڈک دینے میں مدد فراہم کرتا ہے۔

ہاتھوں اور پیروں کو گرم رکھیں: ہاتھوں اور پیروں کو گرم رکھنے کیلئے دستانے اور جوتے پہنیں۔

سرد ہوا سے بچاؤ: ہاتھوں اور چہرے کو ٹوپی یا موفی چھپا کر سرد ہوا سے بچایا جا سکتا ہے۔

گرم چائے یا کافی پینیں: گرم چائے یا کافی پینا جسم کو گرم رکھتا ہے اور ٹھنڈ لگنے کا خطرہ کم ہوتا ہے۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *